اسرائیلی دہشت گردی کے دو سال مکمل، غزہ تباہ و برباد، آج بھی 38 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
غزہ (نیوز ڈیسک) اسرائیل کے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے دعوؤں کے باوجود غزہ پر حملے جاری رہے جس سے مزید 38 فلسطینی شہید ہو گئے۔
اسرائیلی بمباری میں مزید 38 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے، خوراک کے حصول میں متعدد فلسطینی اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے، اسرائیل نے غزہ سٹی کا مرکزی راستہ بھی بند کر دیا، فلسطینی جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس کی قیادت میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے “طوفان الاقصیٰ” کے نام سے اسرائیلی سرحدوں پر بڑا حملہ کیا۔
فلسطینی مجاہدین نے رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سرحدی بستیوں میں داخل ہو کر 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا جس کے بعد اسرائیل نے بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں شروع کر دیں۔
صیہونی حکومت نے نہ صرف 3 لاکھ 60 ہزار ریزرو فوجی غزہ میں تعینات کیے بلکہ پوری غزہ پٹی کو ایک تباہ کن محاصرے کا شکار بنا دیا۔
ان دو برسوں میں ہونے والی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ 1 لاکھ 70 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔
اسرائیلی محاصرے نے غزہ میں 20 لاکھ شہریوں کو قحط اور فاقہ کشی کا شکار کر دیا ہے، ہسپتال، مساجد، کلیسا، سکول، تعلیمی ادارے، سڑکیں اور سویلین انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور پورا علاقہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امید ہے معاہدہ جلد ہوگا، تمام ممالک نے غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے، حماس نے مذاکرات میں بہت اہم باتوں پر اتفاق کر لیا، ہم مشرق وسطیٰ میں3 ہزار سال پرانا تنازع حل کرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ نیتن یاہو کو یرغمالیوں کی ڈیل کے بارے میں منفی رویہ اختیارکرنے سے باز رہنا چاہئے، حماس بہت اہم چیزوں سے اتفاق کررہی ہے،
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ترکیہ، یواے ای اور سعودی عرب بھی امن کیلئے کوشاں ہیں، حماس ترکیہ کے صدراردگان کا احترام کرتی ہے، صدر اردگان غزہ میں امن کیلئے اثرو رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلسطینی شہید
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔