بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے خلاف درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی کی بلدیاتی انتخابات نہ کرانےکے خلاف درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور چیف سیکرٹری کو طلب کرلیا۔
لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس فاروق حیدر نے جماعت اسلامی کے ضیا الدین انصاری کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ 3 بار حلقوں کی حدبندی کرچکے ہیں، سیکرٹری قانون کو کئی مرتبہ کہا لیکن ان کا جواب ہےکہ نیا قانون بنا رہے ہیں۔
عدالت نے باور کرایا کہ کیا وفاق کو کردار ادا نہیں کرنا چاہیے؟ باقی صوبوں میں الیکشن ہوچکے ہیں، پنجاب میں کیوں نہیں ہوتے؟وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ وفاق صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تیار ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت آئین کے تحت پابند ہےکہ وہ بلدیاتی انتخابات کرائے مگر صوبائی حکومت جان بوجھ کر بلدیاتی الیکشن نہیں کرارہی۔ درخواست پر آئندہ سماعت 14 اکتوبر کو ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: درخواست پر
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔