امریکا؛ طالبعلم کیساتھ جنسی تعلق استوار کرنے پر ہائی اسکول ٹیچر گرفتار؛ فردِ جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
امریکی ریاست الاباما میں ہائی اسکول کی ٹیچر اور چیئر کوچ کو ایک کم عمر طالبعلم کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات رکھنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسکول ٹیچر 32 سالہ ماکیلا کالڈویل ہوجنز دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔ انہیں 30 ہزار ڈالر کے ضمانتی بانڈ پر رکھا گیا ہے۔
خاتون ٹیچر پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اسکول کے ایک 19 سال سے کم عمر طالبعلم کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔
فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ماکیلا ہوجنز نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا۔ ابھی تک ان کی آئندہ عدالت میں پیشی کی تاریخ سامنے نہیں آئی۔
اس معاملے پر رینڈولف کاؤنٹی شیرف آفس اور رینڈولف ہائی اسکول نے میڈیا کے رابطے کے باوجود کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔
ماکیلا ہوجنز ریاست کے شہر ووڈ لینڈ کی رہائشی ہیں اور 2022 میں رینڈولف کاؤنٹی ہائی اسکول میں بطور چیئر کوچ تعینات ہوئی تھیں۔
اسکول کے سوشل میڈیا پیجز پر ان کے تعارف میں بتایا گیا تھا کہ وہ مقامی طور پر پلی بڑھی ہیں، خود بھی چھ سال تک چیئر لیڈر رہیں اور بعدازاں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد تدریس سے منسلک ہوئیں۔
اسکول نے انہیں ایک سرگرم اور تجربہ کار کوچ قرار دیا تھا جو کئی برسوں سے چیئر لیڈنگ کے مختلف مقابلوں، کیمپس اور ٹرائی آؤٹس میں ججنگ اور ٹریننگ کراتی رہی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ امریکا میں نیا نہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی خاتون اساتذہ پر اپنے ہی اسکول کے طلبا کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں۔
ٹیکساس اور فلوریڈا میں متعدد ہائی پروفائل کیسز سامنے آئے، جہاں خواتین اساتذہ کو قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔
ٹینیسی میں ایک ٹیچر نے اپنے 15 سالہ شاگرد کے ساتھ تعلقات قائم کیے، جس نے پورے ملک میں بحث چھیڑ دی تھی۔
ایف بی آئی اور مقامی ایجنسیوں کے مطابق، پچھلے ایک دہائی میں ایسے کیسز میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو تعلیمی اداروں میں طلبا کے تحفظ اور اعتماد پر سوالیہ نشان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اس طرح کے واقعات نہ صرف طلبا کی ذہنی صحت اور مستقبل پر منفی اثر ڈالتے ہیں بلکہ یہ اساتذہ اور اداروں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائی اسکول کے ساتھ
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں