وقت آگیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے درست فیصلے کیے جائیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے درست فیصلے کیے جائیں، ہم نے اگر اب فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو قوم معاف نہیں کرے گی، ان خوارج کے سہولت کار بھی ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اورکزئی میں واقعہ ہوا، افسران کے ساتھ پاک فوج کے 9 جوان بھی شہید ہوئے، پاک فوج کے جوانوں نے فتنہ الخوارج کے 19 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، میں آج بھی ایک شہید میجر سبطین حیدر کے جنازے میں شریک ہوا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لیے شہداء نے قربانیاں دیں، ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، عوام یکسو ہیں کہ ان خوارج کا مکمل اور ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 8 اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی جن میں پاکستان بھی شامل تھا، پوری قوم کا ایک ہی مؤقف ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، فلسطین کے عوام کو حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، اقوامِ متحدہ میں فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے عزت دی کہ 57 اسلامی ممالک میں سے چنے گئے 8 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کے عوام کی طرف سے جنگ بند کرانے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا، ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے مدد چاہتا ہوں، مغربی حصہ غزہ سے الگ نہیں ہو گا، پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیاسی بیانات کی بنا پر پیپلز پارٹی سے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی جس میں فیلڈ مارشل بھی موجود تھے، امریکی صدر سے باہمی تعلقات، تجارت، انسدادِ دہشت گردی پر تفصیل سے بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد فلسطین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے، اس حوالے سے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، چین پاکستان کا دیرینہ قابلِ اعتبار اور قابلِ قدر دوست ہے، سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کی باقاعدہ ایک شکل ہے، دفاعی معاہدے کے مطابق دونوں میں سے کسی ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کا کابینہ کی طرف سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے دورے کے لیے پہنچے تو وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے دروازے پر استقبال کیا، وہ ایئر پورٹ چھوڑنے بھی آئے، یہ عزت پاکستان کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے کہا کہ ا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔