پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری سے پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیاکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں نامزد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خارجیوں سے رابطے کاکہا،کیا یہ سچ ہے؟ 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ کون ہے جو کہہ رہا ہے کہ دہشتگردوں کیخلاف آپریشن نہیں ہونا چاہئے،کہاں سے یہ آواز آ رہی ہے، کون کہہ رہا ہے کہ آپریشن نہ کریں بات چیت کریں،وہ شخص کون ہے جوپوری اس کارروائی کو چلا رہا ہے کہ خارجیوں سے بات چیت کرلیں آپریشن بند کریں۔

یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ رات کابل میں4جگہوں پر سٹرائیک کی  ہے؟صحافی کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا جواب آ گیا

ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہناتھا کہ جو یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے وہ اپنی صوبائی حکومت برداشت نہیں جو آپریشن کیخلاف کھڑی نہ ہو،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہاکہ  یہ ہر ایک کیلئے دیکھنے کی ضرورت ہے  کہ آج سے دس ،بارہ سال پہلے یا کسی وقت میں بھی چلے جائیں وہ کون شخص ہے جو یہ سیاسی سوچ رکھتا ہے کہ خارجیوں ، دہشتگردوں سے بات چیت کی جائے،اس وقت وہ ریاست کے ذمہ دار تھے،آج وہ ریاست کا حصہ نہیں ہیں،تو آج بھی وہ یہی کہہ رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ یہ واضح ہو چکا ہے،جو یہ بیانیہ بناتے ہیں اور لوگوں کو کنفیوژ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل کاؤنٹر ٹیررازم میں نہیں ہے،اس کا حل آپریشن کرنے میں نہیں ہے،ان کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کے بچے مارے جو آپ کے بچوں کے سرکاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلتے رہے ان سے بات چیت کرلوں۔

2014میں اے پی ایس واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں،صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ایک متفقہ پلان بنایا ،جس کا نام نیشنل ایکشن پلان رکھا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کاکہناتھا کہ جو خارجی یہ کہتا ہے کہ ہماری بچیوں کے وہ حقوق نہیں جو اسلام نے دیئے ہم بتائیں گے کہ ان کے کیا حقوق ہےان لوگوں سے بات چیت کرلیں،کون ہے جو کہتا ہے پاکستان کی سکیورٹی کی گارنٹی کابل دے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہناتھا کہ اس مجرمانہ سوچ کی قیمت آپ کی فوج ،آپ کی پولیس،آپ کے بچے،خیبرپختونخوا کی ترقی،صوبے  کی گورننس دے رہی ہے،ان کاکہناتھا کہ انہوں نے اپنے دور میں بات چیت بھی کی ،حل دیکھ لیا آپ نے ،خارجیوں  نے دوحہ معاہدے میں بھی کہا اس کا حال دیکھ لیں۔

کن عوامل کی وجہ سے دہشتگردی ہورہی ہے، ڈی جی آئی ایس آئی نے 5نکات پیش کر دیئے

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر سے بات چیت رہا ہے کہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری