لاہور میں جاری مذہبی جماعت کے احتجاج نے صورتحال کو سنگین کر دیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ احتجاج کے دوران پولیس کے 112 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متعدد اہلکار لاپتا بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس ایسی ویڈیوز اور اطلاعات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین نے کچھ اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اور مظاہرین جو کچھ بھی ہاتھ میں آتا ہے، اسے تباہ کرتے جا رہے ہیں۔
فیصل کامران نے الزام عائد کیا کہ یہ احتجاج مکمل طور پر پرتشدد رخ اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا،جب بھی ملک ترقی کی طرف بڑھتا ہے، کچھ عناصر ہمیشہ انتشار کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بار بھی ایک برائے نام مسئلے پر سڑکوں پر نکل کر شہر کو مفلوج کر دیا گیا۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس نے تمام تر کشیدگی کے باوجود بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، اور وہ اب بھی مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم، صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ شہریوں کی جانب سے ون فائیو پر شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ مظاہرین ان کی گاڑیاں چھین رہے ہیں اور ذاتی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین نے تھانوں پر بھی حملے کیے ہیں، اور جس علاقے میں بھی جاتے ہیں، وہاں توڑ پھوڑ اور انتشار پھیلاتے ہیں۔ فیصل کامران کا کہنا تھا،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیسا احتجاج ہے جس میں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ پولیس شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا،جہاں بھی بات چیت کی گنجائش ہوگی، ہم موجود ہیں، لیکن جو شہریوں کو نقصان پہنچائے گا، اس سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد