ٹرمپ نے عاصم منیر کو پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
شرم الشیخ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف یہاں موجود ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر آج یہاں موجود نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دے دیا۔ شرم الشیخ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف یہاں موجود ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر آج یہاں موجود نہیں۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے پیچھے مڑ کر وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تک ان کا سلام پہنچا دیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ خواہش ہے بھارت اور پاکستان بہترین ہمسائے بن کر رہیں۔ واضح رہے کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ سب سے زیادہ امن نوبیل انعام کے مستحق ہیں، امریکی صدر نے صرف امن ہی نہیں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر شہباز شریف یہاں موجود کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔