عوام کے لیے خوش خبری، پیٹرول 6 روپے فی لیٹر تک سستا ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی: عوام کے لیے ریلیف کی خبر آنے والی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مطابق 16 اکتوبر سے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 10 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 97 پیسے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 2 روپے 75 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 1 روپے 64 پیسے فی لیٹر کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ پیٹرولیم انڈسٹری نے اس حوالے سے اپنی ورکنگ مکمل کر کے تفصیلی رپورٹ اوگرا کو بھجوا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اوگرا آج شام پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق سمری پیٹرولیم ڈویژن کے ذریعے وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گا، جہاں اس پر حتمی منظوری وزیراعظم کی مشاورت سے دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی ممکن ہو سکی ہے۔ اگر یہ کمی منظور ہو جاتی ہے تو یہ مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہوگی، خصوصاً ایسے وقت میں جب روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کل متوقع ہے، جو 16 اکتوبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ عوامی حلقے حکومت سے توقع کر رہے ہیں کہ اس ریلیف کو مکمل طور پر عوام تک منتقل کیا جائے تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی آسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کی قیمت میں کے مطابق فی لیٹر کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔