زرین خان آن لائن ہراسانی سے پریشان، ویڈیو پیغام وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کی اداکارہ زرین خان نے سوشل میڈیا پر بڑھتی آن لائن ہراسانی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ردعمل دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 38 سالہ اداکارہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ جب بھی کوئی پوسٹ شیئر کرتی ہیں، انہیں فحش، غیر مہذب اور ذومعنی تبصرے موصول ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چاہے پوسٹ خوشگوار ہو، ذاتی تجربات سے متعلق ہو یا کسی افسوسناک واقعے کی، ہر بار انہیں مایوس کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زرین نے سوال کیا کہ کیا ان کے فالوورز بھی ایسی ہراسانی کا شکار ہیں، اداکارہ نے سوال اُٹھایا کہ آخر اس رویے کی وجہ کیا ہے؟
سلمان خان کی ساتھی اداکارہ زرین خان کی ویڈیو پر متعدد مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کے حق میں آواز اٹھائی، جبکہ کئی نے سوشل میڈیا پر بڑھتی بدتمیزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین نے زرین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹرولز کو نظر انداز کریں۔
واضح رہے کہ زرین نے 2010 میں سلمان خان کے ساتھ فلم ’ویر‘ سے ڈیبیو کیا تھا کہا جارہا تھا کہ انہیں کترینہ سے مشابہت کی وجہ سے سلمان کی جانب سے ان کے مدمقابل لایا گیا ہے۔ زرین خان نے ’ہاؤس فل 2‘، ’ہیٹ اسٹوری 3‘ اور ’اکسر 2‘ میں اداکاری کی، جبکہ ان کی آخری فلم ’ہم بھی اکیلے تم بھی اکیلے‘ 2021 میں ریلیز ہوئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔