پنجاب حکومت کا مرید کے واقعے پر موثر قانونی کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت نے دو سینیئر وکلا کو سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کر دیا ہے۔ رانا شکیل احمد خان اور چودھری خالد رشید سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کئے گئے ہیں۔ سیکرٹری پراسیکیوشن نے سپیشل پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ سپیشل پراسیکیوٹر ملزمان کو سزائیں دلوانے میں کردار ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج میں گرفتار ملزمان کے کیسز کی موثر پیروی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت نے دو سینیئر وکلا کو سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کر دیا ہے۔ رانا شکیل احمد خان اور چودھری خالد رشید سپیشل پراسیکیوٹر تعینات کئے گئے ہیں۔ سیکرٹری پراسیکیوشن نے سپیشل پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
سپیشل پراسیکیوٹر احتجاج کے معاملے پر درج کیسز میں حکومت کی نمائندگی کریں گے۔ دونوں پراسیکیوٹرز انسداد دہشتگردی عدالت اور لاہور ہائیکورٹ میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹی ایل پی کیخلاف درج کیسز میں سرکاری وکیل کی معاونت کریں گے۔ دو سینیئر وکلا کو تعینات کرنے کا مقصدم ملزمان کو سزائیں دلوانے میں کسی بھی قانونی سقم کا خاتمہ کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپیشل پراسیکیوٹر تعینات پنجاب حکومت کر دیا ہے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔