اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے دفاتر سیل، پنجاب حکومت کی جماعت پر پابندی کی سفارش کا فیصلہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتظامیہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں جماعت کے دفاتر سیل کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی، جس کے دوران بھارہ کہو، سواں اور دیگر مقامات پر ٹی ایل پی کے دفاتر کو بند کر دیا گیا۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے اس انتہا پسند جماعت کے خلاف مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش بھیجے گی۔
اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جن میں جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے، اور اس کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دینے کا فیصلہ شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹی ایل پی کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور شدت پسندی کے رجحانات پر قابو پانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر حکومت کی پالیسی واضح دکھائی دیتی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو ریاستی رٹ کو چیلنج کریں یا عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت ٹی ایل پی کے دفاتر

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش