سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 44 ہزار 162 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں آج بڑا اضافہ ہوگیا۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 53 ڈالر کے اضافے سے 4 ہزار 218 ڈالر کی سطح پر آگئی۔ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے باعث ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 44 ہزار 162 روپے کی سطح پر آگئی۔ اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 544 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 80 ہزار 797 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 267 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 909 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت 229 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 066 روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: روپے کی سطح پر آگئی روپے کے اضافے سے سونے کی قیمت
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔