غزہ ،جنگ بندی میں نمایاں کردارپاکستان ، سعودی عرب کا ہے،ملک خدا بخش
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)کے الیکٹرک کی پیرنٹ کمپنی کے ای ایس پاور لمیٹڈ (کے ای ایس پی) کے ڈائریکٹر شان اے اشری نے ان خبروں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حسن چشتی نے سعودی سرمایہ کار کے ساتھ کیای ایس پی میں اپنے مبینہ حصص کی فروخت کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔یہ وضاحت کے الیکٹرک کی جانب سے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے نوٹس میں سامنے آئی۔ال جمایا پاور لمیٹڈ (اے جے پی) جو کے ای ایس پی کے بڑے شیئر ہولڈرز میں شامل ہے کی طرف سے جاری کردہ خط میں شان اے اشری نے کہا کہ کے ای ایس پی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور نہ ہی اس کے شیئر ہولڈرز کو کسی ایسے ممکنہ سودے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔اشری کے مطابق میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کے سوا مجھے کے ای ایس پی میں کسی شیئر کی فروخت کے لین دین کا علم نہیں اور نہ ہی بورڈ یا شیئر ہولڈرز کو کوئی باضابطہ اطلاع دی گئی ہے۔شان اے اشری نے خط میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایسے اعلانات کا مقصد پاکستان میں رائے عامہ کو متاثر کرنا اور سعودی حکام سے مبینہ تعلقات کے ذریعے سرکاری سطح پر سنجیدگی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی میڈیا رپورٹس نہ کے ای ایس پی کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی کے الیکٹرک کے دیگر شیئر ہولڈرز کے لیے مفید ہیں۔خاص طور پر جب ایسی کسی پیش رفت کی ہمیں یا کے الیکٹرک کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تو یہ سب صرف یہ فرضی کہانی یا دکھاوے سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی میزبانی میں سعودی شہزادے منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں 30 رکنی کاروباری وفد کی موجودگی میں دو یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ان میں ایک ایم او یو کے ای ایس پاور لمیٹڈ کے حصص کی خرید و فروخت، جبکہ دوسرا ایم اویو کے الیکٹرک اور ٹرائیڈنٹ انرجی لمیٹڈ کے درمیان توانائی کے شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری سے متعلق تھا۔ملکیت کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے شان اے اشری نے کہا کہ حسن چشتی کے ای ایس پی میں کوئی شیئر نہیں رکھتے، اس لیے وہ فروخت کا اختیار نہیں رکھتے۔خط میں مزید بتایا گیا کہ کے ای ایس پی کے شیئر ہولڈرز میں ڈینہم،ایجیپی انسویسٹمنٹ لمیٹڈ اور آئی جی سی ایف ایس پی وی 21 لمیٹڈ شامل ہیں، جس کے واحد ڈائریکٹر کیسی میکڈونلڈ ہیں اور صرف وہی ایس پی وی 21 کے شیئرز فروخت کرنے کے مجاز ہیں۔اشری نے کہا کہ شیئر ہولڈرز معاہدے (ایس ایچ اے) کے تحت ایس پی وی 21 میں کنٹرول کی تبدیلی اے جے پی اور ڈینہم کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔اس کے برعکس حسن چشتی نے ایس پی وی 21 پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر اے جے پی اور ڈینہم نے کیمین آئی لینڈز کی عدالت میں کارروائی شروع کر دی ہے۔31 جولائی 2025 کے عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ ایک قابل سماعت معاملہ ہے کہ آیا ایس پی وی نے ایس ایچ اے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چشٹی کو کنٹرول حاصل کرنے دیا۔شان اشری کے مطابق جب تک ایس ایچ اے کے تحت تمام فریقین کی رضامندی شامل نہ ہوکے ای ایس پی میں کسی قسم کی ملکیتی تبدیلی ممکن نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ای ایس پی کے شان اے اشری نے ایس پی میں شیئر ہولڈرز ایس پی وی 21 کے الیکٹرک کہا کہ
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ