پاک فضائیہ کی کامیاب کارکردگی کے بعد انڈونیشیا نے بھی چین سے جدید جے-10 سی (J-10C) لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد انڈونیشیا چین کے اس جدید ترین طیارے کو استعمال کرنے والا تیسرا ملک بن جائے گا۔

چینی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے وزیر دفاع سجافری سیامسودین نے اعلان کیا کہ ان کا ملک جلد ہی چین سے جے-10 سی طیارے حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "بہت جلد یہ طیارے جکارتہ کی فضاؤں میں پرواز کرتے نظر آئیں گے"۔ تاہم انہوں نے معاہدے کی تکمیل یا ترسیل کی تاریخ کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی۔

دوسری جانب انڈونیشیا کے وزیر خزانہ پربایا یوڈی سادیوا نے تصدیق کی کہ طیاروں کی خریداری کے لیے 9 ارب ڈالر کی منظوری دی جا چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا کم از کم 42 جے-10 سی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ معاہدہ ملک کی فضائی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ انڈونیشین فضائیہ اس وقت جے-10 سی سیریز کے مختلف ماڈلز کا تکنیکی جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان کی مؤثریت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

جے-10 سی طیارہ چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن کا تیار کردہ 4.

5 جنریشن فائٹر جیٹ ہے، جو جدید AESA ریڈار، PL-15 میزائلوں اور طاقتور انجن سے لیس ہے۔ فی الحال چین اور پاکستان اس طیارے کے آپریٹر ممالک ہیں۔ پاکستان نے 2020 میں 36 جے-10 سی طیارے خریدے تھے اور انہیں "معرکہ حق" کے دوران بھارت کے خلاف مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا تھا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کا یہ فیصلہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا اور ایشیا میں چینی ٹیکنالوجی کے اثر کو مزید بڑھا دے گا۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی