خطے میں عدم تحفظ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، سراج الدین حقانی کی ایرانی وفد سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سراج الدین حقانی نے کہا کہ جس طرح ہم دوسروں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، ہم دوسروں کی طرف سے افغانستان کے لیے بھی اسی طرح کے ارادوں اور احترام کی توقع رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ایک وفد سے ملاقات میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ نے خطے میں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں عدم تحفظ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ طالبان حکومت کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل محمد رضا بہرامی اور کابل میں ایرانی سفیر علیرضا بیکدالی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد سے ملاقات کی۔
جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس ملاقات میں بات چیت کا بنیادی محور دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون اور سرحدی امور تھے۔ دونوں فریقین نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ جنگ اور افغانستان اور ایران کے سرحد پر تعاون کو مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ حقانی نے علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر اچھے تعلقات کی خواہاں ہے، خاص طور پر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ، خطے میں عدم تحفظ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہم دوسروں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، ہم دوسروں کی طرف سے افغانستان کے لیے بھی اسی طرح کے ارادوں اور احترام کی توقع رکھتے ہیں۔ ایرانی وفد نے مشترکہ سرحدوں پر استحکام برقرار رکھنے اور افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ایک ہفتے تک افغانستان اور پاکستان کشیدگی جاری رہی۔
آج ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے، تنازعات کو مکمل طور پر روکنے اور سفارت کاری کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے مقصد سے فریقین کے درمیان فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے دونوں ہمسایہ اور مسلم ممالک کے درمیان امن برقرار رکھنے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہم دوسروں کی کے درمیان کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز