افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی جگہ ملا ہیبت اللہ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
افغانستان میں سیاسی و انتظامی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے نائب، عبداللہ مختار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے مختار کی جگہ محمد وزیر کو نیا نائب وزیر داخلہ مقرر کر دیا ہے، جنہوں نے باقاعدہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ نئی تعیناتی کی تقریب میں سراج الدین حقانی خود موجود نہیں تھے، البتہ ان کے قریبی ساتھیوں نے تقریب میں شرکت کی۔ اس غیرموجودگی کو افغان حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
افغان صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق وزارت داخلہ میں سراج الدین حقانی کے اختیارات میں بھی واضح کمی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے کئی اہم افراد، جن میں نائب وزیر عبداللہ مختار بھی شامل تھے، کو وزارت سے ہٹایا جا چکا ہے۔
سمیع یوسفزئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلیل الرحمان حقانی کے قتل کے بعد سراج الدین حقانی کی پوزیشن طالبان حکومت کے اندر کمزور پڑتی جا رہی ہے، اور حالیہ تبدیلیاں اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔
یہ پیش رفت افغان طالبان کے اندرونی اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے، جو بظاہر اختیارات، پالیسیوں اور قیادت کے دائرہ کار کے حوالے سے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سراج الدین حقانی
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔