حرا مانی کی ہمشکل کہلائی جانے والی خاتون اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے کو تیار ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
زیادہ دن پرانی بات نہیں کہ اداکارہ حرامانی کی ایک ہمشکل خاتون ڈاکٹر اقدس طارق نے سوشل میڈیا پر کافی پذیرائی حاصل کی تھی اور صارفین ان کی اداکارہ سے مماثلت پر حیران رہ گئے تھے۔
یہ پاکستانی نژاد خاتون ڈاکٹر ہیں اور برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ انسٹاگرام ویڈیو پر بچوں کی تربیت، دیکھ بھال اور ذہنی صحت سے متعلق مثبت مشورے بھی دیتی ہیں۔
ایسی ہی ایک وائرل ویڈیو نے انھیں بطور حرا مانی کی ہم شکل کافی شہرت دلوائی تھی۔ ان کی آواز اور انداز گفتگو بھی حرا مانی سے کافی ملتا ہے۔
اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹراقدس طارق نے ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ سوشل میڈیا پر شہرت ملنے سے قبل کبھی سوچا نہ تھا کہ اداکاری کروں گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ لیکن اب میں نے اور گھر والوں نے اس بارے میں سوچا کہ کیا مجھے اداکاری کی طرف جانا چاہیے۔
ڈاکٹر اقدس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جو حرا مانی کر رہی ہیں وہ بہت اچھا کام کر رہی ہے اور مجھے بھی وہی کام کرنا چاہیے جو میرا اصل کام ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس لیے میرا حرا مانی کی جگہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں مستقبل وہی کام کروں گی جس کے لیے میں نے تعلیم حاصل کی اور جس کی اب بھی پریکٹس کر رہی ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مانی کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔