امریکا ہمارے جہازوں پر حملے کر رہا ہے‘ اقوام متحدہ نوٹس لے‘ وینزویلا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-06-12
کراکس (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکا ہمارے جہازوں پر حملے کر رہا ہے،جس کا نوٹس لیا جائے۔ وینزویلا کے سفیر سیمیول مونوکیڈا نے کہا کہ امریکا ہمارے ساحلوں پر موجود جہازوں پر غیر قانونی طور پر حملہ کرکے ہمارے خودمختاری اور سلامتی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ سیمیول مونوکیڈا نے بتایا کہ امریکی حملوں میں اب تک ہمارے 27 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان غیر قانونی حملوں کی تحقیقات کرائے اور بیان جاری کرے کہ جس میں وینزویلا سمیت تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سلامیت کے احترام کی توثیق کی جائے۔ دوسری جانب امریکی فوج نے کہا کہ منشیات لے جانے والی ایک اور کشتی پر کیریبین میں حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب کیریبین کے علاقے میں امریکی بحریہ کی سدرن کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ایل وِن ہوزلی نے 2 سال قبل اپنے عہدے سے استعفا دینے کا اعلان کر دیا ۔ انہوں نے اپنے استعفے میں بتایا کہ وہ 12 دسمبر 2025ء کو امریکی بحریہ میں اپنی خدمات سے دستبردار ہوجائیں گے۔امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایڈمرل ایل وِن ہوزلی کے فیصلے کو سراہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔