مڈغاسکر: فوجی عہدیدار نے صدر کا حلف اٹھالیا‘ اقوام متحدہ کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-06-15
اینٹانانیریو(انٹرنیشنل ڈیسک) مڈغاسکر کے فوجی عہدے دار رینڈریانرینا نے بطور صدر حلف اٹھا لیا ۔ گزشتہ دنوں مڈغاسکر میں جین زی کے مظاہروں میں پولیس اور فوج کی شمولیت کے بعد صدر راجولینا نے اسمبلی تحلیل کردی تھی جس کے بعد فوجی حکمران نے اب ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی۔ یاد رہے کہ مڈغاسکر میں پانی، بجلی کی قلت، بدعنوانی، خراب حکمرانی، بنیادی سہولتوں کی کمی کیخلاف جین زی نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے تھے جن میں جھڑپوں کے دوران 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ نے مڈغاسکر میں صدر آندری راجویلینا کی معزولی کے بعد فوجی قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئینی نظام کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ سیکرٹر ی جنرل مڈغاسکر میں غیر آئینی حکومت کی تبدیلی کی مذمت اور قانون کی حکمرانی و آئینی نظام کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ افریقی یونین اور جنوبی افریقی ترقیاتی کمیونٹی (ایس اے ڈی سی )سمیت علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کے لیے قومی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔سیکرٹر ی جنرل نے مڈغاسکر کے تمام فریقین بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات دور کرنے کے لیے مل کر کام کریں، ملک 2دہائیوں سے بار بار سیاسی بحرانوں کا شکار رہا ہے۔
مڈغاسکر : کرنل مائیکل رینڈریانر ینانے صدر کا حلف اٹھانے کے بعد ایوان سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔