data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جنیوا: اقوامِ متحدہ کی خواتین سے متعلق ایجنسی یو این ویمن (UN Women) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں دس لاکھ سے زائد خواتین اور بچیوں کو فوری خوراکی امداد کی ضرورت ہے، جن میں سے تقریباً ڈھائی لاکھ کو ہنگامی غذائی معاونت درکار ہے، اگرچہ حماس اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی سے وقتی سکون ملا ہے لیکن بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو این ویمن کے جنیوا دفتر کی ڈائریکٹر صوفیہ کالٹورپ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ موجودہ جنگ بندی قحط سے پہلے امداد پہنچانے کا آخری موقع ہے،یہ جنگ بندی ہماری کھڑکی ہے تاکہ ہم تیزی سے امداد پہنچا سکیں اور قحط کو گرفت میں آنے سے پہلے روک سکیں۔

کالٹورپ نے بتایا کہ جنگ بندی اگرچہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک مختصر وقفہ لائی ہے لیکن غزہ میں لاکھوں خواتین کئی بار بے گھر ہونے کے بعد اب سرد موسم میں پناہ سے محروم ہیں،  پچھلے دو برسوں میں غزہ میں خواتین اور بچیاں ہر گھنٹے میں اوسطاً دو کے حساب سے قتل ہوئیں ،  یہ تعداد اس جنگ کی ہولناکی ظاہر کرتی ہے اور  ہماری اجتماعی ضمیر کو نسلوں تک جھنجھوڑتی رہے گی۔

یو این ویمن کے مطابق غزہ میں ہر سات میں سے ایک خاندان کی سربراہ اب ایک خاتون ہے اور ان خواتین تک امداد براہِ راست پہنچانا ناگزیر ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلا سکیں، طبی سہولیات حاصل کر سکیں اور اپنی برباد زندگیوں کو دوبارہ سنوار سکیں۔

صوفیہ کالٹورپ نے کہا کہ غزہ کی بحالی خواتین کے بغیر ممکن نہیں،  وہ خواتین اور لڑکیاں جنہوں نے قحط، خوف اور ہجرت کے دوران بھی غزہ کو زندہ رکھا،  انہی کے ذریعے مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔

انہوں نے تمام فریقوں سے جنگ بندی پر عمل درآمد اور عالمی برادری سے مزید امداد فراہم کرنے کی اپیل کی، اگر خواتین اور بچیوں کی ضروریات کو مرکز میں نہیں رکھا گیا، اور اگر ان کی تنظیموں کو بحالی کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا تو خواتین کو غزہ کے مستقبل سے ہی خارج کر دیا جائے گا۔

خیال رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کررہا ہے ، عالمی ادارے بھی صیہونی فورسز کی جانب سے کی گئی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خواتین اور

پڑھیں:

ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ