Islam Times:
2026-07-24@04:03:59 GMT

امریکا اور چین اگلے ہفتے نئے تجارتی مذاکرات پر متفق

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

امریکا اور چین اگلے ہفتے نئے تجارتی مذاکرات پر متفق

یاد رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اس سال دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی جب ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی درآمدی اشیا پر بھاری محصولات عائد کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکا اور چین نے ایک مرتبہ پھر تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے آئندہ ہفتے مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک اس کوشش میں ہیں کہ ایک اور شدید محصولات کی جنگ سے عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بچا جا سکے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کے مطابق گزشتہ ہفتے چین نے نایاب معدنیات کی برآمد پر وسیع پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ وہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) سمٹ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات منسوخ کر سکتے ہیں۔ تاہم تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کے حل کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چینی نائب وزیرِاعظم ہی لی فینگ اور امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے درمیان ہفتے کے روز "کھلے، تعمیری اور گہرے مذاکرات" ہوئے، جس کے نتیجے میں فریقین نے جلد ایک نئے دور کے بالمشافہ مذاکرات پر اتفاق کیا۔

اسکاٹ بیسنٹ نے سماجی رابطوں پر بتایا کہ گفتگو واضح اور تفصیلی تھی اور وہ اگلے ہفتے ذاتی ملاقات میں بات چیت آگے بڑھائیں گے۔ بیسنٹ نے چین پر الزام لگایا کہ وہ معدنیات کی پابندیوں کے ذریعے عالمی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ یہ نایاب معدنیات اسمارٹ فونز اور گائیڈڈ میزائلوں جیسے اہم آلات میں استعمال ہوتی ہیں۔ چینی ایجنسی "شِنہوا" نے بتایا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے بھی اس کال میں حصہ لیا۔ چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وہ اب بھی اے پی ای سی اجلاس میں شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چین پر 100 فیصد ٹیرف پائیدار نہیں، مگر انہوں نے مجھے اس فیصلے پر مجبور کیا۔‘‘
واضح رہے کہ یہ اعلیٰ سطح کا رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے جی سیون (G7) کے مالیاتی وزرا سے مشاورت تیز کر دی ہے تاکہ چین کی نئی پابندیوں کا مشترکہ ردعمل دیا جا سکے۔

یورپی یونین کے اقتصادی کمشنر والدیس ڈومبرووسکس نے کہا کہ ممالک نے سپلائی چین میں تنوع پیدا کرنے اور قلیل المدتی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ دنیا کی بیشتر نایاب معدنیات چین سے حاصل کی جاتی ہیں، اس لیے متبادل نظام قائم کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔جرمنی کے وزیرِ خزانہ لارس کلنگ بائل نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے تجارتی تنازع کے زیادہ تر مسائل حل ہو جائیں گے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بھی دونوں ممالک سے امن و تعاون کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ یاد رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اس سال دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی جب ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی درآمدی اشیا پر بھاری محصولات عائد کیے تھے۔ کچھ وقت بعد دونوں نے شرحیں کم کیں، لیکن جنگ بندی اب بھی غیر مستحکم ہے اور عالمی منڈیوں کی نظریں اب اگلے ہفتے کے مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکا اور چین

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی