پاکستان اور مصر کا بحری اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور مصر نے بحری اور صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے بلیو اکانومی کو فروغ دینے کا عزم کا اظہار کر دیا۔
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان بحری اور صنعتی شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داری کر رہا ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے بحری امور اور مصری سفیر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، دونوں ممالک نے مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور بلیو اکانومی کو مستحکم کرنے کا عزم کا اظہار کیا۔
وزیر بحری امور نے افریقا، وسطی ایشیا اور مصر میں ’’پاکستان ہاؤسز‘‘ قائم کرنے کی تجویز دی۔ منصوبے کا مقصد تجارتی تعلقات بڑھانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
مصری سفیر نے سویز کینال کے فری زون تجربات کے تبادلے اور پاکستان کے بحری شعبے میں تعاون کی پیشکش کی۔
پاکستانی برآمدات کی مسابقت اور معیار کو سراہتے ہوئے، دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کا بھی عزم کا اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایس آئی ایف سی پاکستان کے بحری و صنعتی شعبے کی بین الاقوامی مارکیٹس میں توسیع کے لیے سرگرم عمل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو فروغ
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔