پشاور، تحصیل چیئرمین کے بھائی کو پولیس چوکی میں بدکلامی مہنگی پڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
متھرا پولیس نے کارِ سرکار میں مداخلت اور بدکلامی کے الزام میں فرمان نامی شخص کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا جو کہ تحصیل متھرا میں پی ٹی آئی کا چیئرمین کا بھائی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور میں پی ٹی آئی تحصیل چیئرمین کے بھائی کو پولیس چوکی میں بدکلامی مہنگی پڑ گئی۔ مقامی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ دکھانے کی کوشش، پی ٹی آئی تحصیل متھرا کے چیئرمین کے بھائی کو مہنگی پڑ گئی۔ متھرا پولیس نے کارِ سرکار میں مداخلت اور بدکلامی کے الزام میں فرمان نامی شخص کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا جو کہ تحصیل متھرا میں پی ٹی آئی کا چیئرمین کا بھائی ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جب چیئرمین کا بھائی مبینہ طور پر ایک زیرِ حراست شخص کو چھڑانے کے لیے متھرا پولیس چوکی پہنچا۔ موقع پر موجود اہلکاروں کے مطابق فرمان نے پہلے پولیس سے تلخ کلامی کی اور پھر مشتعل ہو کر چوکی کی دیوار کو نقصان پہنچایا۔ پولیس ترجمان کے مطابق، فرمان نے اہلکاروں کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کی جس کے بعد اسے حراست میں لے کر حوالات منتقل کر دیا گیا۔
مقامی پی ٹی آئی چیئرمین کا بھائی اس ملزم کو چھڑوانے کے لیے چوکی آیا جس نے خاتون کے ساتھ چھیڑ خانی کی اور ویڈیوز سے خاتون کو بلیک میل کر رہا تھا جسے پولیس گرفتار کرکے چوکی لائی تاہم فرمان اس اقدام پر نالاں تھا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کارِ سرکار میں مداخلت اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواہ اس کا سیاسی یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیئرمین کا بھائی پی ٹی آئی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک