شوہر کے سامنے اسکی حاملہ بیوی کو بےدردی سے قتل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ناجائز تعلق کی وجہ سے ہونے والے جھگڑے نے 2 جانیں لیں۔شوہر کے سامنے اسکی حاملہ بیوی کو بےدردی سے قتل کردیا گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ دہلی کے علاقے رام نگر میں پیش آیا جہاں حاملہ عورت کا قاتل اسکے شوہر کے جوابی حملے میں مارا گیا، 22 سالہ خاتون کو اس کے آشنا نے چھری کے وار سے قتل کیا اس دوران اسکے شوہر نے مزاحمت کی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت شالنی کے نام سےجبکہ قاتل حملہ آور آشُو عرف شیلندرکے نام سے ہوئی جوایک جرائم پیشہ شخص تھا جس کا شالنی سے تعلق تھا۔
پولیس نے بتایا کہ قتل ہونے والی شالنی 2 بچیوں کی ماں تھی، اسکا شوہر آکاش ایک رکشہ ڈرائیور ہے جو شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرعلاج ہے۔
معاملے کی حیرت انگیز تفصلات سامنے آئی ہیں، جرائم پیشہ آشُو کا دعویٰ تھا کہ شالنی کے پیٹ میں اس کا بچہ ہے، اسے غصہ تھا کہ شالنی دوبارہ اپنے شوہر آکاش کے ساتھ رہنے لگی تھی، اس کے قتل کا واقعہ گزشتہ رات پیش آیا ہے۔
مقتولہ شوہر کے ہمراہ ماں سے ملنے قطب روڈ گئی، وہاں آشُو بھی پہنچا اور آکاش پر چاقو سے حملہ کیا، آکاش نے خود کو اس سے بچا لیا، تاہم آشُو نے آکاش کی بیوی شالنی پر حملہ کیا اور اس پر کئی وار کیے۔
اس دوران آکاش نے شالنی کو بچانے کی کوشش کی اور آشُو سے چاقو چھین اسے وار کر کے ہلاک کردیا، پولیس نے مقتولہ شالنی کی والدہ کے بیان کے بعد مقدمہ درج کرلیا ہے اور مزید تحقیقات کررہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شوہر کے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز