کیا ہم ’یونیورس 25‘ میں رہ رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
دنیا آج جتنی روشن ہے، شاید کبھی نہ تھی۔
شہروں میں روشنی کا شور ہے، مگر دلوں میں اندھیرا پھیل رہا ہے۔
ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نئی تہذیب جنم لے رہی ہے، جس میں سب کچھ ہے، مگر سکون نہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ذہن ایک پرانے سائنسی تجربے کی طرف بھٹک جاتا ہے، جسے دنیا ’یونیورس 25‘ کے نام سے جانتی ہے۔
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں امریکی ماہرِ حیوانیات جان بی کیلہون (John B.
اس نے ایک ایسی دنیا بنائی جہاں چوہوں کو تمام تر سہولیات سے آراستہ ماحول دیا گیا۔ کھانے پینے کی کوئی کمی نہیں تھی، خطرہ کوئی نہیں، اور رہائش کی سہولت بہترین۔
ابتدا میں آبادی بڑھی، سماجی ڈھانچہ قائم ہوا، بچے پیدا ہوئے، نظام چلنے لگا۔
مگر جیسے جیسے تعداد بڑھی، سماجی رویے بدلنے لگے۔
چوہوں نے ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کیا۔
کچھ گروہ طاقت کے نشے میں آ گئے، کچھ بے مقصد لڑائیاں کرنے لگے، اور کچھ نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
ایک وقت آیا کہ چوہے اپنی جنت میں ہی نفسیاتی موت مر گئے۔
کھانا موجود تھا، مگر کسی کو بھوک نہ تھی؛
ساتھی موجود تھے، مگر کسی کو تعلق کی خواہش نہ رہی۔
یہ تھی ’یونیورس 25‘ کی کہانی جس میں جنت خود جہنم بن گئی۔
اب ذرا اپنی زمین پر نظر ڈالیں۔
ہم نے ہر چیز دریافت کر لی ہے، زمین کے نیچے سے معدنیات نکال لائے، فضا کو مسخر کرلیا، خلا میں بستیاں بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
لیکن انسان کے اندر جو خلا ہے، وہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ہمارا دور، بظاہر ترقی یافتہ، دراصل وجودی تنہائی کا دور ہے۔
ہمارے پاس لاکھوں دوست ہیں مگر ایک بھی نہیں جس سے دل کی بات کی جا سکے۔
ہم گفتگو کرتے ہیں، مگر ایک دوسرے کو سنتے نہیں۔
ہم ہنستے ہیں، مگر کسی کے دکھ میں شریک نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی دنیا اور یونیورس 25 کا تجربہ ایک دوسرے سے ملنے لگتے ہیں۔
دنیا کی آبادی اب 8 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ کثرت ایک کامیابی لگتی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک خطرہ چھپا ہے۔
بڑھتی تعداد کے ساتھ ذہنی فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
جہاں انسان ایک دوسرے کے قریب ہونے چاہیے تھے، وہاں شہروں کی بھیڑ میں تنہائی بڑھ رہی ہے۔
جیسے یونیورس 25 میں چوہے ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی الگ ہو گئے تھے،
ہم بھی ایک دوسرے کے جسموں کے پاس ہیں مگر روحوں سے دور۔
گھر چھوٹے ہو گئے ہیں، عمارتیں اونچی ہو گئیں،
دل تنگ ہو گئے ہیں، مگر خواہشیں پھیلتی جا رہی ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں ہیں جہاں مشینیں جذبات سمجھنے لگی ہیں، مگر انسان جذبات کھونے لگے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے زندگی کو آسان بنایا، مگر رشتوں کو مصنوعی کر دیا۔
الفاظ اب الگورتھم سے پیدا ہوتے ہیں، جذبات فلٹر سے گزر کر آتے ہیں۔
مسکراہٹیں ایموجی بن چکی ہیں،
محبت ڈیجیٹل نوٹیفکیشن میں بدل گئی ہے۔
ہم اب ’محسوس‘ نہیں کرتے، صرف ’ری ایکٹ‘ کرتے ہیں۔
یونیورس 25 میں جب چوہے ضرورتوں سے آزاد ہو گئے، تو اُن کے رویے بگڑنے لگے۔
ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔
جب ضرورت ختم ہو جاتی ہے، تو مقصد بھی دھندلا جاتا ہے۔
اور جب مقصد گم ہو جائے، تو تہذیب اپنے بوجھ سے خود ہی ٹوٹنے لگتی ہے۔
ہم نے کامیابی کو سہولت کے پیمانے پر پرکھنا شروع کر دیا ہے۔
اب خوشی کا مطلب ہے: رفتار، دولت، شہرت۔
لیکن انسان کی اصل ضرورت ہے معنی، وہ سوال جس کا جواب ہم نے بھلا دیا ہے۔
ہم نے آگے بڑھنے کی جلدی میں یہ بھول گئے کہ کہاں جانا ہے۔
ہم نے اپنے بچوں کو علم دیا، مگر شعور نہیں؛
ٹیکنالوجی دی، مگر مقصد نہیں؛
آرام دیا، مگر احساس چھین لیا۔
اور یہی تو ’یونیورس 25‘ کا المیہ تھا۔
جب مقصد مر جائے، تو زندگی خود سزا بن جاتی ہے۔
بڑھتی آبادی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ زمین چھوٹی پڑ جائے گی،
بلکہ یہ ہے کہ رشتے چھوٹے پڑ جائیں گے۔
جہاں ہزاروں انسان ساتھ ہوں، وہاں بھی تنہائی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔
ہجوم اب تحفظ نہیں دیتا، بلکہ خوف پیدا کرتا ہے۔
ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر پہچانتے نہیں۔
ہم ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، مگر سمجھتے نہیں۔
اور جب معاشرہ اس سطح تک پہنچ جائے تو وہ زندہ تو رہتا ہے،
مگر زندگی اُس میں مر چکی ہوتی ہے۔
جان کیلہون کے مطابق، چوہوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ معاشرتی تعلقات کا خاتمہ تھی۔
جب ہر فرد نے اپنی چھوٹی سی دنیا بنالی، تو بڑی دنیا بکھر گئی۔
آج ہم بھی اپنی چھوٹی ’ڈیجیٹل دنیا‘ میں قید ہیں۔
ہر شخص ایک الگ اسکرین کے پیچھے بیٹھا ہے۔
جہاں وہ خود کو سب سے زیادہ منسلک سمجھتا ہے،
لیکن درحقیقت سب سے زیادہ تنہا ہے۔
ہم نے ’رابطے‘ بڑھا دیے ہیں، مگر ’رشتے‘ کم کر دیے ہیں۔
ہم ’کنیکٹڈ‘ ہیں مگر ’کمیونٹی‘ نہیں۔
ہم ایک ایسی دنیا کے باسی ہیں جہاں خبریں لمحوں میں پھیلتی ہیں،
مگر درد برسوں میں کوئی نہیں سُنتا۔
’یونیورس 25‘ کا انجام خاموش تھا۔ کوئی شور نہیں، کوئی جنگ نہیں، صرف خاموشی۔
اور یہی خاموشی آج ہماری دنیا میں بڑھ رہی ہے۔
ہم شور میں رہ کر بھی خاموش ہو چکے ہیں۔
ہماری گفتگوؤں میں معنی نہیں، ہماری آوازوں میں روح نہیں۔
ہمارے خواب مصنوعی ہیں، ہماری مسکراہٹیں پروگرامڈ۔
ہم جیتے ہیں، مگر جیسے کسی اور کے لکھے ہوئے منظرنامے میں۔
لیکن ہر زوال کے بعد ایک سوال بچ جاتا ہے۔
کیا سب ختم ہو چکا ہے؟
نہیں۔
انسان کی فطرت میں ایک ضد ہے، دوبارہ جنم لینے کی ضد۔
ہم نے ہر دور میں خود کو ازسرِنو دریافت کیا ہے۔
’یونیورس 25‘ کا انجام ہمیں ڈراتا ضرور ہے، مگر خبردار بھی کرتا ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ اگر ہم نے تعلقات، احساس، اور مقصد کو زندہ رکھا تو
ہم اس تجربے کا نتیجہ نہیں، اس کا استثنا بن سکتے ہیں۔
شاید ہمیں واپس لوٹنا ہوگا۔
اپنے اندر کے شور کو سننے کے لیے،
اپنے ہاتھوں سے مٹی کو چھونے کے لیے،
کسی اجنبی کو مسکراہٹ دینے کے لیے۔
کیونکہ زندگی وہ نہیں جو ہمیں دی گئی،
بلکہ وہ ہے جو ہم دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔
’یونیورس 25‘ کا تجربہ ختم ہو گیا، مگر اس کی گونج اب بھی باقی ہے۔
شاید ہماری زمین بھی ایک عظیم تجربہ گاہ ہے۔
جہاں کائنات دیکھ رہی ہے کہ
کیا انسان اپنی آسائشوں کے بوجھ تلے دب جائے گا؟
یا اپنی روح کی روشنی سے اس اندھیرے کو چیر دے گا۔
فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
یا تو ہم ’یونیورس 25‘ کی طرح آسائش میں مر جائیں۔
یا ’انسان‘ بن کر زندہ رہنے کا ہنر سیکھ لیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یونیورس 25 مشکورعلی ایک دوسرے یونیورس 25 کے ساتھ رہی ہے ہو گئے ہم ایک رہا ہے کے لیے نے ایک
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :