عمران خان سے ملاقات کیلیے وزیراعلیٰ پختونخوا کی درخواست پر نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-08-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر وفاقی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری داخلہ پنجاب، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی پٹیشن پر رجسٹرار آفس نے متعدد اعتراضات عاید کر رکھے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ اعتراض ہے کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک عدالتی فیصلہ آچکا ہے، یہ بھی اعتراض ہے کہ وزیر اعلیٰ، خیبرپختونخوا حکومت اور صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بغیر کیسے درخواست دائر کر سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ اعتراض نہیں بنتا کیونکہ ابھی تو کابینہ بنی ہی نہیں ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ رجسٹرار آفس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی درخواست پر متعدد اعتراضات عاید کیے تھے۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے دائر پٹیشنز یکجا کر کے عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔ ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ عدالتی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا طریقہ کار اور ایس او پی طے کیے جا چکے ہیں، پی ٹی آئی کے آفس ہولڈرز، بانی پی ٹی آئی سے ہفتہ وار ملاقات کرنے والوں کی فہرست تیار کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اعتراض میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے متعلقہ آفس ہولڈرز کو کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی عمران خان سے جیل میں ملاقات درخواست پر ملاقات کی
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.