این سی سی اے کے لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کی بازیابی کی درخواست دائر کرنے والی ان کی اہلیہ بھی لاپتہ ہو گئيں
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
---فائل فوٹو
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی اے) کے لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کی بازیابی کی درخواست دائر کرنے والی اِن کی اہلیہ بھی لاپتہ ہو گئيں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں دورانِ سماعت درخواست گزار، این سی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی اہلیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار سے اِن کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے، اِن کا فون بند ہے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پٹیشنر نے درخواست واپس لینے کے لیے دباؤ کا بتایا تھا، جس مشکوک گاڑی میں اغواء کیا گیا اس کی نمبر پلیٹ جعلی ہے۔
جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مشکوک نمبر پلیٹ والی گاڑی اسلام آباد میں کیسے چل رہی تھی؟
عدالت نے پٹیشنر کے سی ڈی آر سے دباؤ ڈالنے والوں کا پتہ لگانے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کو بازیاب کروانے کے لیے پولیس کو تین دن کی مہلت دے دی۔
واضح رہے کہ مغوی افسر، این سی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو 14 اکتوبر کو اپارٹمنٹ کی پارکنگ سے اغواء کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈپٹی ڈائریکٹر سی سی اے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔