جاپان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار خاتون وزیراعظم منتخب
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق 64 سالہ سانائے تاکائیچی نے ایوانِ زیریں (ہاؤس آف ری پریزنٹیٹیوز) میں 237 ووٹ اور ایوانِ بالا (ہاؤس آف کونسلرز) میں 125 ووٹ حاصل کیے۔ اسلام ٹائمز۔ جاپان کی پارلیمنٹ نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو وزیراعظم منتخب کر لیا ہے۔سانائے تاکائیچی نے پارلیمانی ووٹنگ میں واضح برتری حاصل کرتے ہوئے جاپان کی 104ویں وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق 64 سالہ سانائے تاکائیچی نے ایوانِ زیریں (ہاؤس آف ری پریزنٹیٹیوز) میں 237 ووٹ اور ایوانِ بالا (ہاؤس آف کونسلرز) میں 125 ووٹ حاصل کیے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی وہ جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سانائے تاکائیچی آج شام باضابطہ طور پر وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔ماہرین کے مطابق ان کی کامیابی جاپان کی سیاست میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت ہے، جو ملک کی روایتی سیاسی فضا میں ایک تاریخی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق جاپان کی ہاؤس آف
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔