مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ کے لیے نہیں تھا،طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ٹی ایل پی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ کے لیے نہیں تھا، 69 مہنگی برانڈز واچز ان کی تجوری سے نکلی ہیں جو توشہ خانہ میں بھی نہیں ہیں، ہر اس برانڈ کی گھڑی نکلی ہے جسے یہ کہتے تھے کہ یہ یہود و نصاری کی ہیں، یہ ان برانڈز کی گھڑیاں تھی جن پر یہ کہتے تھے کہ ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ 100 ایسے اکاؤنٹ کی نشاندہی ہوئی ہے جس پر سود کے ذریعے وہ کروڑوں روپے وصول کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ منافع حرام ہے سودی سسٹم ختم کیا جائے، بینک کے منافع کو سود کہنے والے ٹی ایل پی والوں کے ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہیں اور کروڑوں روپے سود آیا ہوا ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج تک لاپتا ہے انہوں ںے کفن باندھا ہوا تھا، نہ کفن مل رہا ہے اور نہ کفن باندھنے والا مل رہا ہے، خیبر پختون خوا جیسی کم عقل قیادت اور ٹی ایل پی جیسی سوچ والا، پاکستان ان دونوں جیسی منفی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ایک طرف افغانستان ہم پر بمباری کررہا تھا اور دوسری جانب ٹی ایل پی والے مرید کے میں پولیس والوں پر گولیاں پر برسارہے تھے، ایسی سیاست کرنے والوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں، ٹی ایل پی پر پنجاب حکومت نے جو ریفرنس وفاق کو بھیجا ہے وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اس میں ٹی ایل پی کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، اب وفاقی حکومت اس پر کام کررہی ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہم مولانا صاحب کو ناراض نہیں کرسکتے وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کی جب بھی تجویز آتی ہے ہم انہیں اور ان کی تجویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹی ایل پی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔