شمالی عراق میں امریکہ کی غیر معمولی فوجی سرگرمیاں
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق منگل کی صبح سویرے سے شنوک ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پروازیں جاری رہیں، جو سازوسامان اور فوجی اہلکار لے کر الحریر پہنچ رہی تھیں، اس دوران سات سے آٹھ بار لگاتار پروازیں ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ شمالی عراق کے ایک باخبر ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج کے شنوک ہیلی کاپٹروں کی غیر معمولی سرگرمیاں اربیل کے قریب واقع الحریر فوجی اڈے پر دیکھی گئی ہیں، جہاں امریکی افواج پہلے سے تعینات ہیں۔ ذرائع کے مطابق منگل کی صبح سویرے سے شنوک ہیلی کاپٹروں کی مسلسل پروازیں جاری رہیں، جو سازوسامان اور فوجی اہلکار لے کر الحریر پہنچ رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران سات سے آٹھ بار لگاتار پروازیں ہوئیں، جو گزشتہ کئی مہینوں میں سب سے بڑی نقل و حرکت تصور کی جا رہی ہیں۔
معلومات فراہم کرنے والے ذریعے کا کہنا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں کی مشکوک سرگرمیوں نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے، بالخصوص ان کے سامان اور پرواز کے راستوں کے حوالے سے جو تاحال نامعلوم ہیں۔ عراقی میڈیا کو دیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں ممکنہ طور پر حالیہ ہفتوں میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی لاجسٹک سرگرمیوں سے جڑی ہیں اور یہ اشارہ دیتی ہیں کہ الحریر فوجی اڈہ شام میں امریکی غیر قانونی اڈوں کے لیے بنیادی لاجسٹک مرکز بن چکا ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی عسکری موجودگی کم کرنے کے بجائے مزید مستحکم کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹروں کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔