وفاقی حکومت کا سیکشن آفیسرز کی تقرریوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سٹی 42: وفاقی حکومت نے سیکشن آفیسرز کی تقرریوں کا اعلان کر دیا
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق 'سوپ' امتحان 2024ء میں کامیاب 33 امیدوار سیکشن افسر مقرر کر دیے گئے ۔تمام افسران کو سیکشن آفیسر (پرابیوشنری) مقرر کیا گیا ہے،
سیکشن آفیسرز کی تقرریاں 3 نومبر 2025 سے مؤثر ہوں گی۔احمد نبیل جاوید، ساجد علی، قیصر خان، صفدر حسین سیکشن آفیسرز مقرر کردیے ۔ سرفراز احمد، محمد مبشر، توقیر احمد، ریاض احمد، وجیہہ عارف ،محمد سلیم، آصف دلشاد احمد ہاشمی، نذیر سعید، قاسم محمود سیکشن افسر مقرر ہوگئے ۔
بالی ووڈ کے مشہور ترین مزاحیہ اداکار انتقال کر گئے
زوہیر احمد، سماریہ جبین، افشان اقبال، ایاز امجد چٹھہ ،اسرار مشعل خان، طارق جاوید، محمود خان، شاہ خالد ،شازیہ جبین، راشد علی سوڈھر، آصف علی، بلال الرحمان،زبیر احمد کلیم، شاہد نواز، ندا نصیر، وجاہت علی شاہ سیکشن آفیسر مقرر ہوگئے ۔
جان محمد، شوکت عثمان اور محمد سجاد سیکشن آفیسر مقرر کردیے گئے ۔تمام محکمے 3 نومبر 2025 تک افسران کو ریلیو کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیکشن آفیسرز
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔