پاک افغان تجارتی گزرگاہ جلد کھلنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پاکستان اور افغان جنگ بند کے بعد 10 روز سے بند تجارتی گزرگاہ جلد کھولے جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
چمن میں باب دوستی سے افغانستان میں پھنسے ٹرک، واپس لوٹنے لگے، افغانستان میں مال اُتار کر واپس پہنچنے والی گاڑیوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم 2000 سے زائد افغان باشندوں کو بھی افغانستان منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب طورخم میں بھی تجارتی گزرگاہ کھولنے کی تیاریاں مکمل ہوگئیں، گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے اسکینر نصب کیے جاچکے ہیں۔
تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے کارگو گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ، شمالی وزیرستان میں غلام خان اور ضلع کرم میں خرلاچی سرحد بھی 10 روز سے بند ہے۔
پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم اور باب دوستی سمیت پاک افغان تمام سرحدوں پر تجارت اور پیدل آمد و رفت دس روز سےمعطل ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق کل سے صرف افغان باشندوں کو افغانستان لے جانے خالی پاکستانی گاڑیوں کو واپسی کی اجازت ہوگی، بندش سے دونوں طرف ویزا پاسپورٹ ٹریولنگ کرنےوالوں کی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔
دونوں جانب ٹرکوں میں موجود ٹماٹر، انگور، انار، سیب، سبزیاں خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
کسٹم ذرائع کےمطابق طورخم تجارتی گزرگاہ دوطرفہ تجارت کے لئے کھولنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، آئندہ 24 گھنٹے تک سرحد کسی بھی وقت کھولی جاسکتی ہے۔
طورخم ٹرازٹ ٹرمینل میں کسٹم سمیت دیگر عملہ تعینات کردیا گیا ہے جبکہ کارگو گاڑیوں کی کلیرنس کےلئےاسکینر بھی نصب کردیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تجارتی گزرگاہ گاڑیوں کی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔