عدالت عظمیٰ ‘سپر ٹیکس کیس سے متعلق وکیل کے دلائل مکمل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251022-01-10
اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ آئینی بینچ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستو ں پر سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے ایف بی آر حکام سے استفسار کیا ہے کہ ٹیکس 18 ماہ کی اسٹیٹمنٹ پر لگے یا 12 ماہ پر؟۔ ایف بی آر حکام نے کہا کہ اسپیشل ہو یا ریگولر ٹیکس 12 ماہ کی اسٹیٹمنٹ پر ہی لگتا ہے۔ ٹیکس پیئرز کے وکیل عدنان حیدر کے دلائل مکمل ہو گئے۔ ٹیکس پیئرز کے وکیل نے کہا کہ ایف بی آر مجھ سے 2023 کے قانون کے مطابق ٹیکس لے رہا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ واضح نہیں کر پا رہے ہیں کہ کیسے ٹیکس لگ رہا ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ اگر چارج لگانا ہو تو اسی سال کا لگایا جائے اور استثنیٰ بھی دیا جائے، تمام کیسز کا فیصلہ اسی بینچ نے ہی کرنا ہے تو ٹریبونل کے کیسز بھی سن لے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئینی بینچ نے ٹیکس سے متعلق تشریح کے کیسز سننے ہیں، یہ بینچ191 اے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، سپرٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت آج دوبارہ ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔