فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی میں فراڈ اور بدعنوانی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی میں فراڈ اور بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے جب کہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے کارروائی کرکے ملزم ساجد محمود کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت سال 2024 میں مقدمہ درج ہوا تھا، ملزم نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے موضع تھلہ سیداں (G-14/3) اسلام آباد کی زمین کے معاوضے میں جعلسازی کی۔
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی نے 2005 میں موضع تھلہ سیداں کو حاصل کر کے اصل متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے سروے کیا تھا۔
ملزم نے دیگر ملوث افراد کے ساتھ ملی بھگت کر کے جعلی رپورٹ تیار کی اور اصل مالک کی جگہ جعلی مالک کو رقم ادا کروائی، ملزمان نے اصل متاثرہ شخص کو 77 لاکھ 88 ہزار 300 روپے کے قانونی معاوضے سے محروم کیا۔
ملزم نے دیگر ساتھیوں سے مل کر 65 لاکھ روپے غیرقانونی طور پر جعلی مالک کو دلوا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔
ملزم نے دیگر ساتھیوں سے مل کر سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فراڈ کے ذریعے مالی بدعنوانی کی، ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملزم نے دیگر
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :