امریکی جوڑے نے فلاحی کاموں کیلئے 2900 ارب رقم عطیہ کرکے مثال قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
ہیوسٹن کے ارب پتی جوڑے نینسی اور رچ کنڈر نے اپنی 95 فیصد دولت، جو تقریباً 29 کھرب پاکستانی روپے (11.2 ارب ڈالر) کے برابر ہے، فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جوڑے کی جانب سے دی جانے والی رقم مقامی فلاحی منصوبوں، پارکس کی بحالی، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی پروگرامز پر خرچ کی جائے گی۔ یہ عطیہ ہیوسٹن کی تاریخ کے سب سے بڑے فلاحی اعلانات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
رچ کنڈر نے کہا کہ ’’ہماری کامیابی میں ان بے شمار لوگوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا، اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ جب ہم دنیا سے جائیں تو اسے پہلے سے بہتر چھوڑ کر جائیں۔‘‘
نینسی اور رچ کنڈر اس سے قبل بھی تعلیم، ماحولیات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے مختلف منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔