جمادی الاول 1447 ہجری کا چاند نظر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
جمادی الاول 1447 ہجری کا چاند نظر آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رویت ہلال سے متعلق 5 قانونی سوالات
وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی نے کہا ہے کہ جمادی الاول کا چاند نظرآگیا ہے، وفاقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جمادی الاول کا چاند نظر آنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ جمادی الاول 1447 ہجری کی پہلی تاریخ جمعے کے روز 24 اکتوبر 2025 کو ہوگی۔
جمادی الاول کا نام عربی لفظ ’جمادی‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی خشک یا بنجر کے ہیں، جو قبل از اسلام عرب کے خشک موسم کی عکاسی کرتا ہے۔ ’الاول‘ کا مطلب ہے پہلا، جس سے اسے دوسرے مہینے ’جمادی الثانی‘ سے ممتاز کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رویت ہلال کمیٹی کے لیے دم پخت ، تنقید کے بعد ٹینڈر منسوخ
اگرچہ جمادی الاول 4 حرمت والے مہینوں میں شامل نہیں، تاہم اس مہینے کی تاریخی اور روحانی اہمیت مسلمہ ہے۔ ابتدائی اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات، جیسے بعض غزوات، ہجرتیں اور اہم شخصیات کی پیدائش یا وفات اسی مہینے میں وقوع پذیر ہوئیں۔
دنیا بھر کے مسلمان اس مہینے کو عبادت، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نفلی روزوں کے ذریعے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کے روزے رکھنے کی سنت کو بھی اسی روح کے ساتھ اپنایا جاتا ہے، تاکہ یہ مہینہ غور و فکر، تقویٰ اور روحانی تازگی کا ذریعہ بن سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news جمادی الاول چاند رویت ہلال کمیٹی وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمادی الاول چاند رویت ہلال کمیٹی وفاقی حکومت جمادی الاول کا چاند
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔