تنخواہ اور پنشن،اہم فیصلہ کر لیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: یکم اور 2 نومبر بروز ہفتہ اور اتوار سرکاری تعطیلات ہیں جس کے باعث حکومت نے تنخواہ اور پنشن 31 اکتوبر 2025کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہیں اور پنشن معمول سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔،پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اکتوبر کی تنخواہیں اور پنشن جمعہ 31 اکتوبر 2025 کو جاری کی جائیں گی۔
اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کے خلاف کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج
سیکشن آفیسر (ایف آر) محمد یونس کے دستخط سے جاری مراسلے میں اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور تمام ضلعی اکاؤنٹس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کا عمل 31 اکتوبر تک مکمل کیا جائے،یہ سرکلر تمام انتظامی سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ماتحت محکموں کے سربراہان کو بھی بھیجا گیا ہے۔
اس کے علاوہ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، گورنر اور وزیراعلیٰ کے دفاتر کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
برازیل: شہری نے انشورنس رقم کے لالچ میں اپنی لگژری پورش گاڑی کو آگ لگا دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اور پنشن
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔