دنیا بھر میں 28 نئے ’کاربن بم‘ منصوبے جاری، ماحولیاتی بحران میں خطرناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا بھر میں اس وقت 28 نئے کاربن بم منصوبے جاری ہیں جس سے ماحولیاتی بحران میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی ماحولیاتی تنظیموں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 28 نئے کاربن بم منصوبے جاری ہیں۔ یہ منصوبے 2021 سے اب تک متعارف کرائے گئے ہیں اور اس سے ماحولیاتی بحران میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
الجزیرہ میں اس حوالے سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں سے خارج ہونے والی کاربن پیرس معاہدے کے عالمی بجٹ سے 11 گنا زیادہ ہے۔ 4 غیر سرکاری
تنظیموں کی اس رپورٹ نے عالمی توانائی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاربن بم وہ منصوبے ہیں، جو اپنی عمر میں ایک ارب ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں گے۔
تین سال قبل 2022 میں 425 کاربن بم منصوبوں کی نشاندہی کی گئی تھی، ان میں سے اب 365 فعال ہیں۔ کئی منصوبوں کی پیداوار کم یا ازسرنو جانچ کے باعث مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ نئے تیل اور گیس منصوبے، پیرس معاہدے کے اہداف سے متصادم ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد عالمی درجہ حرارت کو 1.
کاپ 28 اجلاس میں ممبر ممالک نے فوسل فیولز کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا۔ سال 2021 سے 2024 تک 65 بڑے بینکوں نے 1.6 کھرب ڈالر ایسے منصوبوں کو دیے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔
کاربن بم منصوبوں میں حصہ لینےوالی کمپنیوں میں اینی، ایکسون موبل اور ٹوٹل انرجیز شامل ہیں۔ نئے کاربن بم منصوبے موسمیاتی تبدیلی کے اہداف کو ناممکن بنا سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تنظیموں نے بینک اور سرمایہ کار فوسل فیول منصوبوں کی معاونت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاربن بم
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا