سمندر کی سبز لہروں اور رات کی چمک کا معمہ حل، ڈبلیو ڈبلیو ایف کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی اور بلوچستان کے ساحلی پٹی میں گزشتہ کئی دنوں سے سمندر کے پانی کی سبز رنگت اور رات کے وقت دکھائی دینے والی چمک نے ماہی گیروں اور ساحلی آبادی کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا، بہت سے لوگ اس تبدیلی کو زہریلی کائی، آلودگی یا کسی ماحولیاتی خطرے سے جوڑ رہے تھے تاہم ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اس حوالے سے واضح اور تسلی بخش وضاحت جاری کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق تنظیم کے ترجمان نے کہاکہ یہ منظر نامہ دراصل سمندر میں پائے جانے والے ایک قدرتی جاندار نیکٹولوکا سنٹی لانس یا سی اسپارکل کی موسمی موجودگی کے باعث ہے جو نہ تو زہریلا ہے اور نہ ہی ساحلی ماحولیاتی نظام کے لیے کوئی خطرہ رکھتا ہے، سی اسپارکل ایک ایسا جاندار ہے جو بعض حالات میں سبز، سرخ، نارنجی یا بے رنگ بھی دکھائی دیتا ہے جبکہ پاکستان کے ساحلوں پر اس کی سبز اور نارنجی رنگت عام طور پر دیکھی جاتی ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ترجمان کاکہنا تھا کہ محکمہ کے ماہرین نے وضاحت کی کہ نیکٹولوکا کا سبز رنگ دراصل اس کے اندر موجود مائیکرو جاندار Protoeuglena noctilucae سے آتا ہے جو فوٹوسنتھیسز کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی جاندار رات کے وقت سمندر میں دکھائی دینے والی دلکش روشنی یا سی اسپارک کا بنیادی سبب ہے، جسے اکثر لوگ غلطی سے آلودگی یا زہریلی کائی سمجھ لیتے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے اس حوالے سے کہا کہ موجودہ بلوم مکمل طور پر غیر زہریلا ہے اور اس کے باعث سمندری حیات، بالخصوص مچھلیوں کو کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی، 2012 سے اب تک پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً تمام نیکٹولوکا بلومز غیر زہریلے ثابت ہوئے ہیں، البتہ بلوم کے خاتمے پر سمندر میں عارضی بدبو پیدا ہونا فطری عمل کا حصہ ہے اور اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ مظہر مکمل طور پر قدرتی ہے، لیکن کراچی کی بڑھتی ہوئی ساحلی آلودگی ایک الگ اور نہایت سنگین مسئلہ ہے، جو فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے، روزانہ ہزاروں ٹن صنعتی فضلہ، سیوریج، ٹھوس کچرا اور تیل آلودگی لیاری اور ملیر ندیوں کے ذریعے سمندر میں شامل ہورہی ہے جو سمندری حیات اور ماہی گیر برادری کے مستقبل کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ساحلی آلودگی کے تدارک، سیوریج و صنعتی فضلے کے بہتر انتظام، ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بہتری اور ساحلی پانی کے معیار کی مستقل نگرانی کو فوری بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان کے سمندری ماحول اور ساحلی آبادی کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین