پاکستانی طالبہ نے عالمی مقابلہ مضمون نویسی میں گولڈ ایوارڈ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پاکستان کی او لیول کی طالبہ زینب نواز نے کوئینز کامن ویلتھ انٹرنیشنل مقابلہ مضمون نویسی 2025 کی سینئر کیٹیگری میں گولڈ ایوارڈ جیت کر پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کیا ہے۔
سینئر کیٹیگری میں کامن ویلتھ کے 56 رکن ممالک سے 53,434 طلباء و طالبات نے اس مقابلے میں شرکت کی تھی ۔ کوئینز کامن ویلتھ مقابلہ مضمون نویسی رائل کامن ویلتھ سوسائٹی یو کے نے 1883 میں شروع کیا جو کہ دنیا کا قدیم ترین بین الاقوامی تحریری مقابلہ ہے۔
اس سال "ہماری دولت مشترکہ کا سفر” کے موضوع سے متعلق شرکاء کو جغرافیائی، تاریخی یا ذاتی سفر پر غور کرنے کا چیلنج دیا گیا تھا ۔ سینئر کیٹیگری میں، 14 سے 18 سال کی عمر کے لیے، زینب نے اپنے مضمون میں غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جس کا عنوان تھا "قومی لیجنڈز اور لوک داستان ہمیں تاریخ اور ثقافت کے سفر پر لے جا سکتے ہیں۔
زینب نے سوہنی ماہیوال کی مشہور محبت کی کہانی کو منفرد انداز میں تصور کرتے ہوے اپنی تحریر قلمبند کی ۔
زینب اس سے قبل اس مقابلے کی جونیئر کیٹیگری میں چاندی اور کانسی کے ایوارڈز حاصل کر چکی ہے۔ رائل کامن ویلتھ سوسائٹی نے زینب کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دی ہے جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کیٹیگری میں کامن ویلتھ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔