چیف جسٹس نے مذکورہ عدالت کا معائنہ بھی کیا اور ڈیوٹی پر موجود ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سے مختلف عدالتی امور پر بات چیت کی اور ججوں کو ہدایت کی کہ وہ سائلین کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ زیرالتوا مقدمات جلد نمٹائے جاسکیں۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے پشاور کی عدالتی تاریخ میں شام کی عدالتوں کا باضابطہ افتتاح کر دیا، جس کے بعد مذکورہ عدالتوں میں مقدمات پر سماعت شروع کر دی گئی۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے پشاور میں ایک تقریب کے دوران شام کے اوقات کی عدالتوں کا افتتاح کیا، اس موقع پر رجسٹرار پشاورہائی کورٹ محمد زیب، پرنسپل سیکریٹری ٹو چیف جسٹس عادل مجید، ڈسٹرکٹ سیشن جج پشاور انعام اللہ وزیر، سینئر سول جج ارشد علی مہمند اور دیگر جوڈیشل افسران بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس نے مذکورہ عدالت کا معائنہ بھی کیا اور ڈیوٹی پر موجود ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سے مختلف عدالتی امور پر بات چیت کی اور ججوں کو ہدایت کی کہ وہ سائلین کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ زیرالتوا مقدمات جلد نمٹائے جاسکیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ سب سے پہلے شام کی عدالتیں ایبٹ آباد میں شروع کی گئیں، اب سیکنڈ شفٹ کی دو عدالتیں پشاور میں فعال کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شام کی عدالتوں کا بنیادی تصور جلد انصاف کی فراہمی ہے، ان عدالتوں کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ دن کے وقت نہیں آسکتے شام کے وقت عدالت میں پیش ہوں گے اور اس اقدام سے مقدمات نمٹانے میں بھی تیزی آئے گی۔ رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ شام کی عدالتوں کے حوالے سے اس وقت کوہاٹ اور مردان سے بھی درخواستیں آئی ہیں کہ وہاں بھی یہ عدالتیں شروع کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کی عدالتوں کے بارے میں وکلا کے تحفظات کو دور کریں گے، بار اور بینچ کے درمیان مثالی تعلق موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پشاور ہائی کورٹ شام کی عدالتوں کی عدالتوں کا چیف جسٹس

پڑھیں:

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان