تحریک تحفظ آئین کا 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں قومی کانفرنس بلانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا۔
اعلامیہ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس محمود خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک کی سیاسی، آئینی اور پارلیمانی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں علامہ راجہ ناصر، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں قومی مشاورتی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں اپوزیشن جماعتیں، بار کونسلز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مدعو ہوں گی، مصطفیٰ کھوکھر، حسین یوسفزئی اور خالد چوہدری پر مشتمل انتظامی کمیٹی قائم کردی گئی۔
اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں پر مبینہ ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مذاکرات سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرے، عمران خان کے سیاسی رفقا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتیں فوری بحال کی جائیں۔ عمران خان کے زیر التوا مقدمات کی میرٹ پر فوری سماعت شروع کی جائے۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے اشاروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ غیر آئینی اقدام کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت فوری بحال کی جائے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جدوجہد آئین و جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے جاری رہے گی۔
محمود خان اچکزئی:
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ٹوٹنے کے بعد آئین کے ساتھ جو کھلواڑ ہو رہا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں، ملک میں آئین نام کی چیز ہی نہیں ہے، لوگوں کا رہبر جیل میں ہے، ان میں اتنی بھی شرافت نہیں کہ جیل میں ملاقات کی اجازت دے دیں۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں، جس پارٹی سے مذاکرات کرنے ہیں اس کا لیڈر جیل میں ہے، جب عوام اٹھتی ہے تب سب کچھ جل جاتا ہے، ان کو ڈائلاگ کے لئے بسم اللہ کرنی چاہئے، اگر ملاقات کی اجازت ہو گی تو ڈائیلاگ کے لئے قدم بڑھایا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان:
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا بہت ہو گیا، ان دو سالوں میں دھمکیاں اور دست و گریبان بہت ہو گئے، مینڈیٹ چوری کے بعد ہم پارلیمنٹ میں بیٹھے دھرنا نہیں دیا، آپ والدین کو جیل میں رکھ کر انہیں کھینچیں تو بچے کیسے آپ کے ساتھ بیٹھے گے، اگر آپ نہیں سمجھتے تو عوام آپ کو سمجھا دے گی۔
انہوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عوام خان سے نہ ملے تو یہ ممکن نہیں ہے، پاکستان کی عوام کو طیش نہ دلوائیں، اس سے جمہوریت کا نقصان ہو گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ملاقات اس لئے نہیں کرواتے کہ وہاں سے ٹویٹ آتی ہے تو بشریٰ بی بی کی ملاقات کیوں بند ہے، عوام کے منتخب نمائندے ادھر آ کر کہیں گے کہ ہمیں بانی سے ملاقات کروائو، یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ سسٹم کا فالٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم پارلیمنٹ میں بات کرنا چاہ رہے تھے، جس طریقے سے پارلیمنٹ کا اجلاس چلایا گیا اس طرح سے اگر یہ چلائیں گے تو تھرڈ فورس فائدہ حاصل کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین اسلام آباد ملاقات کی اجلاس میں نے کہا کہ جیل میں کیا گیا کی جائے گیا کہ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔