راولپنڈی: 21 سالہ کنواری لڑکی بہنوئی کے ہاتھوں حاملہ ہونے کے بعد قتل
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
راولپنڈی کے تھانہ جاتلی کے علاقے نتھہ چھتر میں انسانیت کو شرما دینے والا افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بہن کے گھر مقیم 21 سالہ یتیم کنواری لڑکی کو بہنوئی اور ایک دوسرا شخص مبینہ زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، اہل خانہ بھی تشدد سے پیچھے نہ رہے حاملہ ہونے کا پتہ چلا تو مبینہ طور پر زہریلی گولیاں کھلا کر موٹ کے گھاٹ اتار دیا۔
جرم چھپانے کے لیے موت کو طبی ظاہر کر کے نعش کو اچانک دفنا بھی دیا معاملہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے پر سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے نوٹس لیا اور قبر کشائی کروا کے پوسٹمارٹم کرایا گیا تو لڑکی 8 ماہ کی حاملہ ثابت ہوئی تشدد کی بھی تصدیق ہوئی، پولیس نے بہنوئی گلفراز اور امین نامی ملزم سمیت دیگر ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق رواں ماہ 13 جنوری کو سوشل میڈیا پر واقعہ وائرل ہوا تو سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے نوٹس لیکر ایس پی صدر نبیل کھوکھر کو اپنی نگرانی میں چھان بین کی ہدایات کیں۔
پولیس ٹیم نے علاقے سے پوچھ گچھ کے بعد قانون کارروائی شروع کر کے عدالت سے قبر کشائی و پوسٹمارٹم کی اجازت لیکر پوسٹمارٹم کرایا تو لڑکی کے 8 ماہ سے حاملہ ہونے اور اس پر مبینہ تشدد کیے جانے کی تصدیق ہوئی جس پر تھانہ جاتلی نے پولیس مدعیت میں ہی ملزمان گلفراز عرف گلو، دوسرے ملزم امین، گلفراز کی والدہ اور ہمشیرہ کے خلاف قتل ، مبینہ زیادتی ، جرم کو چھپانے و شہادتوں کو ضائع کرنے سمیت تشدد وغیرہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں ملزمہ گلزار بیگم کے مقتولہ کو زہر دینے کے انکشاف بھی شامل ہیں اسی طرح نتھہ چھتر کے رہائشی رستم علی وغیرہ دو بھائیوں کے انکشافات کو بھی ایف آئی آر کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں وہ پولیس کو بتاتے ہیں کہ مقتولہ کی ہمشیرہ مسماتہ رافعہ جو اسی گھر میں بیاہی ہوئی ہے نے انھیں بتایا ہے کہ گلفراز عرف گلو ، مسماتہ گلزار بیگم اور مسماتہ انیلہ بی بی اکثر اوقات ہمشیرہ (مقتولہ) کو تشدد کا نشانہ بناتے رہتے۔
واقعہ سے قبل مقتولہ بہن نے اس کو بتایا کہ اس کے ساتھ گلفراز عرف گلو اور امین رفیق مبینہ زیادتی کرتے ہیں جس سے حمل ہوا اور 13 جنوری کو بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس آئی تو دیکھا مسماتہ گلزار بیگم اور مسماتہ انیلہ میری ہمشیرہ کو ڈنڈوں سے تشدد کر رہی تھیں اس دوران مقتولہ کی ہمیشرہ نے بتایا کہ انھوں نے گلفراز کے ساتھ مل کر زہریلی گولیاں پانی میں ملا کر پلا دی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ زہرخوانی کے متعلق حتمی تجزیے اور ڈی این اے کے نمونے فرانزک سائنس ایجنسی کو بیجھوا دیے گئے ہیں جبکہ ملزمان گلفراز عرف گلو اور امین رفیق اور دونوں خواتین ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں چھاپے مارنے میں مصروف ہیں ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔