سابق وزیراعظم نوازشریف کل پاکستان روانہ ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
لندن: سابق وزیراعظم نوازشریف کل پاکستان روانہ ہوں گے،ان کی وطن واپسی شیڈ ول کے مطابق ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف نے لندن میں متعدد میڈیکل ٹیسٹ کرائے،ان کا طبی معائنہ کیا گیا،سابق وزیر اعظم کی صحت بہتر ہے۔
نوازشریف 12 اپریل کو لندن پہنچے، 2ہفتے قیام طے تھا،ان کی واپسی بھی طے شدہ دن کے مطابق ہو رہی ہے،سابق وزیر اعظم کے قیام میں توسیع کی خبر درست نہیں ہے۔
علاوہ ازیں سابق وزیراعظم و مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے ، غلط خبریں پھیلائی گئی ہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان صحیح سمت میں چل پڑا ہے،وزیراعظم شہباز شریف بہترین کام کررہے ہیں جب کہ مریم نواز نے پنجاب میں ترقی کی نئی منازل طے کی ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ سب کو مل کر پاکستان کی ترقی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، شہباز شریف نے گرتی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا ہے،پاکستان میں ہر کام میرٹ پر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز پنجاب میں کوئی بھی کام میرٹ کے خلاف نہیں کر رہیں،لاہور کی بحالی کیلئے بہت سے منصوبے چل رہے ہیں، لاہور کو اصل حالت میں بحال کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔