Daily Mumtaz:
2026-06-03@00:00:42 GMT

’جنگ نہیں ہوگی‘، نیر اعجاز نے وجہ بتا دی

اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT

’جنگ نہیں ہوگی‘، نیر اعجاز نے وجہ بتا دی

پاکستان کے مشہور اداکار نیر اعجاز نے حال ہی میں ایک نجی ٹیلی ویژن مارننگ شو میں اپنی نجی زندگی، پروفیشنل کیریئر، اور پاک بھارت کشیدگی پر کھل کر گفتگو کی۔ ان کے اس انٹرویو نے مداحوں میں ایک نیا جذبہ پیدا کیا، خصوصاً ان کے پاک بھارت جنگ پر دیے گئے بیان نے تو پورے سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی۔ نیر اعجاز نے جنگ کے حوالے سے اپنے موقف میں جو حقیقت بیان کی، وہ نہ صرف حقیقت پسندانہ تھی بلکہ اس نے ایک امن کی آرزو بھی بیدار کی۔

نیر اعجاز نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کسی بھی قوم یا ملک کے لیے تباہ کن ہوتی ہے، لیکن ان کے مطابق بھارت کے پاس پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی نہ تو طاقت ہے اور نہ ہی ہمت۔ ان کا ماننا تھا کہ دونوں ممالک کی اقتصادی اور فوجی طاقت محدود ہے اور جنگ کا آغاز دونوں ممالک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیاں دراصل داخلی سیاست کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں اور نریندر مودی اپنے عوام کے جذبات سے کھیل کر انتخابات جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیر اعجاز نے اپنے ماضی کے مشہور ڈرامے ’لاگ‘ کا ذکر کیا جس میں انہوں نے بھارتی فوج کے میجر کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ کردار ایک ظالم بھارتی فوجی کا تھا، جس نے کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا۔ نیر اعجاز نے اس کردار کو بڑی محنت سے نبھایا اور اس کے ذریعے دنیا کو ایک تلخ حقیقت سے آگاہ کیا کہ کیسے بھارت کی فوج کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کردار کے ذریعے ان کا مقصد یہ تھا کہ کشمیریوں کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ ملے۔ اس کردار نے نیر اعجاز کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی دلائی اور یہ ثابت کیا کہ اگر کوئی اداکار اپنی محنت اور لگن سے کردار کو حقیقت کا رنگ دے، تو وہ عالمی سطح پر شہرت حاصل کر سکتا ہے۔

نیر اعجاز نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ فنکار بھی عام پاکستانیوں کی طرح جنگ اور دیگر سیاسی مسائل پر پریشان ہوتے ہیں۔ وہ خود بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنگ کا آغاز دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن ہو گا اور اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیاں دینے کے باوجود ان کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہیں ہوگی کیونکہ جنگ میں وسائل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور دونوں ممالک کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اس قسم کی لڑائی میں حصہ لے سکیں۔ اس کے علاوہ، نیر اعجاز نے واضح طور پر کہا کہ اگر پاکستان نے جوابی کارروائی کی تو بھارت کے لیے یہ اچھا ثابت نہیں ہوگا۔

نیر اعجاز نے اپنے بیان میں بھارت کے بارے میں ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ بھارت کے پاس پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی نہ تو طاقت ہے اور نہ ہی ہمت۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نیر اعجاز کے خیال میں بھارت محض دھمکیاں دے کر اپنی عوام کو خوف میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اور عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

نیر اعجازکا موقف نہ صرف حقیقت پر مبنی ہے، بلکہ اس میں امن کی خواہش بھی شامل ہے۔ نیر اعجاز کی باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنگ ایک ایسا حل نہیں ہے جو کسی بھی قوم کے لیے فائدہ مند ہو۔ ان کے اس موقف نے جنگ کی دھمکیوں کے پس پردہ موجود سیاسی کھیل کو واضح کیا اور ایک مثبت پیغام دیا کہ دونوں ممالک کو اپنی توانائیاں امن کے قیام میں صرف کرنی چاہئیں، نہ کہ جنگ کی طرف راغب ہونے میں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے بھارت کے جنگ کی کے لیے کہ جنگ ہے اور

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی