data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250924-2-17
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) سندھ ایمپلائز الائنس کی اپیل پر سرکاری اداروں میں تالابندی اسکول کالج بند یونیورسٹی میں چار دن کی چھٹی اساتذہ کا احتجاج حکومت کو سرکاری ملازمین کا معاشی قتل نہیں کرنے دیں گے یہ موت اور زندگی کا سوال ہے حکومت اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں سرکاری ملازمین کے حقوق پر ڈاکا مار رہی ہے تفصیلات کے مطابق سندھ ایمپلائز الائنس کی اپیل پر پنشن اصلاحات بل کے خلاف سندھ بھر کی طرح ٹنڈوجام کے بھی تمام سرکاری اداروں میں ملازمین نے ہڑتال کی اور سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی انتظامیہ نے احتجاج کی وجہ سے چار یوم کے لیے یونیورسٹی کو بند کر دیا جب کہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین نے اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے ایک بڑی ریلی نکالی جس کی قیادت ساوٹا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر فہد نذیر کھوسو نے کی اس موقع پر انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نا اہلی اور بے حسی کی وجہ سے آج پورے سندھ کے تعلیمی اداروں اور سرکاری اداروں میں سناٹا چھایا ہوا ہے اور تمام ملازمین اپنے معاشی قتل سے حکمرانوں کو روکنے کے لیے سراپا احتجاج ہیں انھوں نے کہا پنشن اصلاحات بل کے بجائے حکومت کو ملازمین کو اس مہنگائی میں مذید ریلیف دینے کا بل منظور کرنا چاہیے اس نے بجائے ریلیف دینے کے ان کے حق پر ہی ڈاکا مارنا شروع کردیا ہے جیسے برداشت نہیں کیا جائے گا سندھ زرعی تحقیقاتی ادارے ٹنڈوجام کے ملازمین کی تنظیم سارنگیا کے مرکزی صدروشن چنا جنرل سیکرٹری شریف کا ٹھیو نے ادارے کے مرکزی دروازے پر تالا لگا کر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے تمام ملازمین اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے متحد ہو چکے ہیں سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو انگریز حکومت کی طرح اپنا غلام سمجھ کر ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا ہوا ہے خود اپنی تنخواہوں میں چار سو فیصد اضافہ اور سرکاری ملازمین کو ان کی اپنی محنت کی کمائی دینے کو بھی تیار نہیں انھوں نے جب تک ہمیں اپنے جائز حقوق حاصل نہیں ہو جاتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی آئی ایم ایف کی غلام حکمران ہیں سندھ کے سرکاری ملازمین کو یہ غلامی منظوری نہیں گسٹا کے صدر پنھوں بھرگڑی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم ایک عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرکاری اداروں میں سرکاری ملازمین ملازمین کو کرتے ہوئے

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار