اکاؤنٹس افسران کے پروموشن کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیف سیکرٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے سیکرٹری سروسز اور سیکرٹری یونیورسٹی بورڈ کو سندھ حکومت کے اکاؤنٹس افسران کے پروموشن کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ اس حوالے سے پاکستان کے سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی نواسی سیما بشیر نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی اور انہیں اکاؤنٹس افسران کی پروموشن کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ اور وزیر اعلیٰ کے احکامات اور ایم ڈی Stveta کی اکاؤنٹس افسران کی پروموشن کی تجاویز جو کئی سالوں سے التواکا شکار ہیں‘ ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی سفارش کی گئی۔ چیف سیکرٹری سندھ نے تمام معروضات غور سے سنیں اور بعد ازاں سیکرٹری سروسز آور سیکرٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈز کو اکاؤنٹس افسران کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کا حکم جاری کردیا اور اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔ سیما بشیر کی چیف سیکرٹری سندھ سے ملاقات کے موقع پر محمد سمیع فرحان بھی ہمراہ تھے۔ سیما بشیر نے اس موقع پر چیف سیکرٹری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اکاؤنٹس افسران کی پروموشن کا دیرینہ مسئلہ جلد حل کرایا جائے گا۔چیف سیکرٹری سندھ کو سی ایم ڈائریکٹر کے تحت ترقیوں کے حوالے سے بریفننگ بھی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف سیکرٹری سندھ اکاو نٹس افسران
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔