سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ یہ اسکیم خاص طور پر ان خواتین کے لیے ہے جو روزانہ تعلیم، ملازمت یا دیگر ضروریات کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتی ہیں، درخواست گزار خواتین اور طالبات کا ریکارڈ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے مرتب کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت سندھ نے حالیہ ہفتے کے دوران خواتین کو پنک اسکوٹیز دینے کا فیصلہ کرلیا، سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن کہتے ہیں کہ خواتین کو مفت الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی انقلابی قدم ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کی زیرصدارت اہم اجلاس میں پنک اسکوٹیز پروگرام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت رواں ہفتے خواتین اور طالبات کو مفت الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے جا رہی ہے، اس سہولت سے خواتین کو روزانہ کی آمدورفت میں آسانی، وقت کی بچت اور سفری اخراجات میں کمی کے ساتھ ایک محفوظ اور باوقار سفر میسر آئےگا۔

انہوں نے کہا کہ شفاف میکنزم کے تحت میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر الیکٹرک اسکوٹیز الاٹ کی جا رہی ہیں، حکومت سندھ کی جانب سے ایک شفاف اور آسان طریقہ کار تیار کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے کہ خواتین اپنی زندگی کے ہر شعبے میں خودمختار ہوں اور یہ اسکیم ان کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگی، تمام طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ سینئر وزیر نے کہاکہ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ خواتین کو ایسے مواقع دیئے جائیں جن سے وہ تعلیم، ملازمت اور دیگر سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لے سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خواتین کو

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی

گلگت:

گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔

مزید پڑھیں

گلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے

گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟

دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔

انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔

ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ