ہم نے پاکستان کوعظیم عسکری قوت بنایا، اب اسے معاشی قوت بنائیں گے: وزیر اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10مئی کی فتح نے دشمن کو وہ سبق سیکھایا جسے وہ زندگی بھر یادرکھے گا ،ہم نے پاکستان کوعظیم عسکری قوت بنایا ، اب اسے معاشی قوت بنائیں گے، سمندر پار مقیم پاکستانی ملک کے عظیم سفیر ہیں جو دنیا میں ہر فورم پر ملک کا دفاع کرتے ہیں ، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کئے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے،کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا ، مسئلہ کشمیر ، پانی کے مسئلہ ، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر برابری کے بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں ۔ لندن میں سمندر پار پاکستانیوں کے حوالے تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو 10مئی کی فتح اورمعرکہ حق کی عظیم کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ فتح ہے جس کے ذریعے دشمن کو وہ سبق سیکھایا جسے وہ زندگی بھر یادرکھے گا ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ میرے لئے انتہائی مسرت اور فخر کی بات ہے کہ میں سمندر پار مقیم عظیم پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، جو ملک کے وہ عظیم سفیر ہیں جو یورپ ، برطانیہ ، شمالی امریکہ میں اور مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں دن رات محنت کرتے ہیں اور دیار غیر میں رزق حلال کماتے ہیں ، میں صدق دل کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ محنت سے زرق حلال کماتے ہیں، گزشتہ برس خون پسینے کی کمائی سے ساڑھے38ارب ڈالر پاکستان بھجوا ئے ہیں ، اس کے بغیر پاکستان کی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی جس پر آپ کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ سمندر پار پاکستانیز نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی پوری دنیا میں ملک کا ہر فورم پر دفاع کرتے ہیں اس پر بھی آپ کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دیار غیر میں ڈاکٹرز ، انجینئرز،کاروباری افراد اور محنت کش جس طریقے سے شبانہ روز محنت کرتے ہیں ، یہ پاکستان کی عظیم صفات ہیں جو پوری دنیا میں آپ نے بطور محنت ، دیانتداری اور باوقار پاکستانی خدمات متعارف کرائی ہیں۔ وزیر اعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو 10مئی کی فتح اور عظیم کامیابی کی مبارکباد بھی دی اور کہا کہ یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سیکھایا وہ زندگی بھر یادرکھے گا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب ہم پر بے جا الزام لگایا گیا تو میں نے کاکول میں بیان دیا اور کہا کہ پاکستان کا اس واقعہ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور میں نے اعلان کیا کہ ایک عالمی کمیٹی قائم جائے جو پہلگام واقعہ کی شفاف تحقیقات کرے لیکن ہمسایہ ملک نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ 6 مئی کو دشمن نے پاکستان کے خلاف حملہ کیا اور بے گناہ پاکستانیوں اور مساجد اور شہری املاک پر حملے کر کے نقصان پہنچایا جس پر پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی اور ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس کر دیئے گئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتہ چل گیا کہ اگر بات نکلی تو بہت دور تک چلی جائے گی ۔ صبح اڑھائی بجے چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کا مجھے فون آیا اور کہاکہ جناب وزیر اعظم آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر دوبارہ حملہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جناب وزیر اعظم مجھے اجازت دیں، دشمن نے چونکہ دوبارہ مکروہ حرکت کی ہے ،اس کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی میں بعض عرب دوست ممالک سے ہو کر آیا ہوں ،وہاں ایک ملک کے سربراہ نے مجھ سے پوچھا کہ وہ کونسی دو باتیں ہیں جو پاکستان کی عظیم فتح کی وجہ بنیں ، جس پر میں نے جواب دیا کہ ایک وجہ افواج پاکستان کی دلیری ، شجاعت اور پیشہ وارانہ مہارت ، اللہ تعالی پر بھروسہ اور بہت سی جدید اور اعلیٰ سطح کی تربیت اور دوسرا سیاسی اور عسکری قیادت کی سوچ میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی اور تیسری بات جو میں نے انہیں کہی اور بتایا کہ وہ غیر متزلزل عزم کہ ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس جنگ کی قیادت کی ،ان کی بری فوج کے جوانوں اور افسران نے اپنی اعلیٰ ترین کارکردگی دکھائی اور ہمارے شاہینوں نے اور ایئر چیف ظہیر احمد بابر نے بہترین انداز میں چھپٹ چھپٹ کر دشمن کو قابو کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کو وہ سرفرازی عطا فرمائی جس کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پوری قوم کراچی سے پشاور تک سجدہ ریز تھی اور اللہ تعالیٰ نے عظیم پاکستانیوں کو وہ فتح دی کہ آج مغرب سے مشرق تک لوگ پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم عظیم پاکستانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس معرکہ حق کے آپریشن میں جسے ہم آپریشن بنیان مرصوص کہتے ہیں کے دوران دشمن کا ایک گولہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر کے قریب آ کر لگا جس کے نتیجہ میں ان کے کمسن بیٹے ارتضیٰ عباس شہبد ہوگئے جبکہ لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس لائن آف کنٹرول پر اپنی ذمہ داری پیش کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے، صدر مملکت آصف علی زرداری اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس ننھے شہید کا جنازہ پڑھا اور شہید کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہواتھا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اس قبیح حرکت کا بھرپور بدلہ لیا ہے ، جنگ بندی ہو چکی ، اب ہم امن چاہتے ہیں ،ترقی اور خوشحالی چاہتے اور پاکستان کے اندر بے روز گاری کا خاتمہ اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے یہ پیش کش کئی مرتبہ دنیا کے سامنے رکھی ہے اور دنیا نے ہماری بات سنی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے یہ بات کئی مرتبہ کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر ، پانی کے مسئلہ ، تجارت اور انسداد دہشتگردی پر برابری کے بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم خطے میں ہمسایہ ملک ہیں اور یہ ہم پرمنحصر کے ہم نے امن سے رہنا ہے یا جھگڑالو ہمسایوں کی طرح رہنا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ یہ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم عزت اور وقار کے ساتھ رہیں لیکن اس کیلئے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا ایک بنیادی ستون ہے ، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کئے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا ،اسی طرح غزہ میں جو ظلم و ستم کیا جا رہا ہے ،فلسطین اور غزہ کے اندر 64ہزار بزرگ ، مائیں ،بہنیں اور بچے شہید ہوگئے ، ان کی خوراک اور ادویات بند کر دی گئیں ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کے غزہ کی پٹی کے علاقہ کے تناسب سے 64 ہزار شہادتیں اتنے خطے کے اندر کبھی نہیں ہوئیں ، اتنی زندگیاں کبھی تباہ نہیں ہوئیں، دیکھتی آنکھ نے ایسے دلخراش منظر کبھی نہیں دیکھے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان خطوں میں اب امن قائم ہونا چاہئے اور اسلامی دنیا کو آگے بڑھ کر امن کیلئے بات چیت کرنی چاہئے اور اپنا لوہا منوانا چاہئے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ کبھی بھی کوئی قوم محنت اور محنت کے بغیر اونچا مقام حاصل نہیں کر سکتی ، ہماری یہ فتح اللہ تعالیٰ کے خاص انعام و اکرام اور افواج پاکستان کے عظیم ولولہ اور شجاعت اور عسکری قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وہ دلیرانہ اور منجھا ہوا کردار جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ فتح نصیب کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں آج یہاں پر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ سمندر پار پاکستانیز کی ساڑھے38ارب ڈالر کی ترسیلات زر کے بغیر پاکستان کی معیشت کا پہیہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور انشاء اللہ تارکین وطن اسے آگے بڑھائیں گے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہے ،جہاں ہم نے پاکستان کوعظیم عسکری قوت بنایا ، اب جب اسے معاشی قوت بنائیں گے توہمیں بھی دنیا آگے بڑھ کر وہی احترام دے گی جو دوسروں کو مل رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری قوم بڑی عظیم اور جری قوم ہے اور پاکستان کی آبادی 60فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ چین کی کہاوت ہے کہ ہر چیلنج موقع ہوتا ہے ،جہاں 15سے 30سال کے ہمارے نوجوانوں پر مشتمل 60فیصد آبادی کاحصہ ایک چیلنج ہے وہیں یہ ایک موقع بھی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت ، پیشہ ورانہ تربیت اور ووکیشنل ٹریننگ فراہم کریں ، پاکستان نے اس کا آغاز کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس تیل اور گیس کے بہت کم ذخائر ہیں ، ہمارا اثاثہ ہماری نوجوان نسل ہے اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو بہترین تربیت اور علم سے آراستہ کریں گے تو یہ پاکستان اور اس کے پرچم کو آسمانوں تک لے جائے گی کیونکہ صرف اور صرف محنت ہی وہ امر ہے جس سے قومیں بنتی ہیں اور سمندر پار پاکستانیز کے عظیم سفیر ہیں ، پاکستانی قومی عظیم قوم ہے اور اگر ہم یہ فیصلہ کرلیں کے ہم نے غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو جس طرح دشمن کے 6جہاز گرائے اسی طرح غربت کا خاتمہ بھی کر کے دیکھائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانی ہے خدائے بزرگ وبرتر کی قسم یہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں ہے، اس کیلئے صرف اور صرف قوت ارادی کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم کمر باندھ لیں اور یہ فیصلہ کرلیں کے دن رات محنت کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں وہ مقام عطاء فرمائے گا جو قیام پاکستان کے وقت قائداعظم کی عظیم تحریک میں شامل لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دے کر حاصل کیا اور خون کے دریا عبور کر تے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑ کر آنکھوں میں یہ خواب بسائے چل پڑے کے ہم پاکستان جا رہے ہیں اور ہند و انگریز سامراج سے نجات حاصل کر کے اس ملک میں جا رہے ہیں جہاں ہمیں صرف اور صرف میرٹ ، محنت اور دیانت کی بنیاد پر مواقع ملیں گے جو قائد اعظم کا خواب تھا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ملکر وہ پالیسیاں بنا رہے ہیں کہ قرضوں سے نجات حاصل کریں گے ، سرمایہ کاری کو آگے لائیں گے اور پاکستان کو عظیم بنائیں گے جس کیلئے کچھ پالیسیاں اعلان ہو چکی اور کچھ ہو رہی ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت متفق ہے کہ ہم نے اس ملک کو عظیم بنانا ہے اور میرا یقین ہے کہ ہم کر کے دیکھائیں گے ۔تقریب سےوزیر دفاع خواجہ محمد آصف ، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر سمندرپار پاکستانیز چوہدری سالک حسین اور چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن قمر رضا نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں مختلف شعبہ ہائےزندگی سےتعلق رکھنے والے سمندرپا ر پاکستانیوں نے شرکت کی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے پاکستان کو وزیر اعظم نے کہا پاکستانیوں کو پار پاکستانیز شہباز شریف نے وہ زندگی بھر پاکستان کے اللہ تعالی پاکستان کی سمندر پار بنائیں گے چاہتے ہیں نے کہا کہ کو وہ سبق کرتے ہیں ہے کہ ہم کہ ہم نے کی عظیم سے نجات دشمن کو ہیں اور پیش کر ہے اور اگر ہم ہیں جو
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔