اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اکسیوس کے مطابق جدعون کے رتھ کے نام سے جانے والے اس منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج چار سے پانچ بکتر بند اور پیادہ لشکروں کے ساتھ غزہ پر حملہ کرے گی، باقی بچ جانے والی عمارتوں اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی اور اس علاقے کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے قریب سمجھے جانے والے ایک میڈیا ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ صہیونی حکومت کی سیکیورٹی کابینہ نے ایک ایسا منصوبہ منظور کیا ہے جس کے تحت اگر جنگ بندی کا معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو اسرائیلی فوج پورے غزہ پر مکمل قبضہ کر لے گی۔ اکسیوس ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے 15 مئی کو جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے کی آخری تاریخ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے پیر، 5 مئی 2025 کو تصدیق کی ہے کہ ان کی سیکیورٹی کابینہ نے اتوار کی رات ایک منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار طریقے سے پورے غزہ پر قبضہ کر کے اسے غیر معینہ مدت تک اپنے کنٹرول میں لے لے گی۔
یاد رہے کہ غزہ سنہ 2007 سے اسرائیل کی سخت ناکہ بندی میں ہے، اگرچہ اسرائیل نے سنہ 2005 میں اپنے آبادکاروں کو اس علاقے سے نکال لیا تھا۔ یہ ناکہ بندی اشیاء، خوراک، ادویات اور حتیٰ کہ تعمیراتی مواد کی شدید پابندیوں پر مشتمل ہے۔ اسرائیل غزہ پر بارہا فوجی حملے کر چکا ہے جن میں ہزاروں افراد، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، شہید ہو چکے ہیں۔ اکسیوس کے مطابق جدعون کے رتھ کے نام سے جانے والے اس منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج چار سے پانچ بکتر بند اور پیادہ لشکروں کے ساتھ غزہ پر حملہ کرے گی، باقی بچ جانے والی عمارتوں اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی اور اس علاقے کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لے گی۔
اس منصوبے میں غزہ کے تقریباً 20 لاکھ افراد کو جبری طور پر رفح میں قائم ایک انسانی ہمدردی کے علاقے میں منتقل کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم اقوام متحدہ اور تمام امدادی اداروں نے اس منصوبے میں کسی بھی قسم کی شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منتقلی رضاکارانہ نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے تحت
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔